ہم بھارت سے دبتے کیوں ہیں؟

542

دانشوروں کی ایک مجلس میں یہ سوال زیر بحث تھا کہ آخر ہم بھارت سے اتنا دبتے کیوں ہیں۔ کشمیریوں پر قیامت گزر گئی اور مسلسل گزر رہی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کردی، اب وہ بڑی تیزی کے ساتھ اس علاقے میں مسلم آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہم جو کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں اتنی ہمت بھی نہیں رکھتے کہ اس شہ رگ کو بھارت کی گرفت سے چھڑانے کے لیے وہ اقدام بھی کرسکیں جو ایک آزاد و خود مختار ملک کی حیثیت سے بظاہر ہمارے اختیار میں ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم بھارت کے مقابلے میں بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں اور اسے ترکی بہ ترکی جواب دینے کو تیار نہیں ہیں۔ آخر کس چیز نے ہمیں اس بات سے روکا ہے کہ ہم بھارت پر تجارتی پابندیاں نہ لگائیں، اسے افغانستان کے لیے تجارتی راہ داری دینے سے انکار کردیں، پاکستان کی فضائوں میں اس کی فضائی سروس پر پابندی لگادیں، سلامتی کونسل میں اس کی رکنیت کے لیے ووٹ نہ دیں اور سفارتی جارحیت کے ذریعے پوری دنیا میں اس کا جینا حرام کردیں۔ ہم اس وقت بھارت کے ساتھ محاذ آرائی کی جس پوزیشن میں ہیں اس میں اگرچہ جنگ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر جنگ کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں اور پاکستان یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا تو کیا بھارت کے خلاف سفارتی و غیر سفارتی سطح پر مزاحمت بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے اور جو کچھ ہم بھارت کے خلاف کرسکتے ہیں وہ آخر ہم کیوں نہیں کر پا رہے؟
یہ بحث جس نتیجے پر پہنچی اس کا لب لباب یہ ہے کہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے والی قوموں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ہمیشہ دینے والے کی مرضی چلتی ہے، لینے والی قومیں ہمیشہ دینے والوں کے تابع ہوتی ہیں، پاکستان کو غیر ملکی قرضوں میں اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے کوئی قدم بھی نہیں اُٹھا سکتا۔ پاکستان اس وقت دنیا بھر کے تمام مالیاتی اداروں کا بُری طرح مقروض ہے۔ انہوں نے یہ قرضے پاکستان کی محبت میں نہیں دیے بلکہ اس کی سیاسی آزادی اور خود مختاری سلب کرنے کے لیے دیے ہیں۔ آئی ایم ایف نے چند ارب ڈالر کے عوض پاکستان کی پوری معیشت پر قبضہ کر رکھا ہے اور اسے اپنے اشاروں پر چلا رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) بظاہر دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کا عالمی ادارہ ہے لیکن درپردہ اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو روکنا اور کشمیریوں کی مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔ پاکستان میں ایف اے ٹی ایف کا ہدف وہ عناصر ہیں جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، البتہ وہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کے حامی اور اس کے مددگار ہیں اور کسی نہ کسی طرح اس جہاد میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے چالاکی کے ساتھ حکومت پاکستان کو ان عناصر کی سرکوبی پر لگادیا ہے تا کہ وہ ان کا صفایا کرکے ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ اسے پیش کرے ورنہ عالمی اقتصادی پابندیوں کے لیے تیار رہے۔
ایک زمانہ تھا جب امریکا کشمیریوں کے حق خودارادیت کی برملا حمایت کرتا تھا اور بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی مسلح جدوجہد کو حق بجانب قرار دیتا تھا۔ امریکا کی اس پالیسی کا مقصد بھارت کو دبائو میں لانا تھا جو اُس وقت سابق سوویت یونین (روس) کا حلیف بنا ہوا تھا اور پاکستان کو امریکی حلیف کا درجہ حاصل تھا۔ پھر نائن الیون کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور امریکا نے کشمیر سمیت پوری دنیا میں جاری مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دے دیا۔ کشمیری مجاہدین اور ان کے سپورٹرز پر بھی دہشت گردی کا لیبل چسپاں کردیا گیا۔ امریکا نے ’’کولیشن سپورٹ فنڈ‘‘ کا لولی پاپ دے کر پاکستانی فوج کو بھی اس کام میں اپنا ہمنوا بنالیا۔ بظاہر اس فنڈ کا مقصد افغانستان میں مبینہ دہشت گردوں کے خاتمے میں امریکا کی مدد کرنا تھا لیکن درحقیقت امریکا نے اس حقیر فنڈ کے ذریعے پاکستان کی فوج کو کرایے کی فوج بنادیا تھا جس سے وہ اپنے مقصد کا کام لے رہا تھا۔ امریکا کے مقاصد میں جہاد کشمیر کو روکنا بھی شامل تھا۔ چناں چہ جنرل پرویز مشرف نے امریکا کی ہدایت پر پاکستان میں جہادی تنظیموں پر پابندی لگادی، کشمیر کے لیے جہاد فنڈ جمع کرنا غیر قانونی قرار دے دیا اور کنٹرول لائن پر بھارت کو غیر قانونی باڑھ کی تعمیر میں سہولت دے کر مجاہدین کی نقل و حرکت عملاً روک دی۔ یہ سب کچھ امریکا کے کہنے پر ہوا اور پاکستان امریکا کا تابع مہمل بن کر اس کی فرمانبرداری کرتا رہا۔ اب اگرچہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے اور عمران حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ ہم ماضی میں امریکا کی جنگ لڑتے رہے ہیں۔ عمران خان نے اسامہ بن لادن کو شہید کہنے میں بھی عار محسوس نہیں کی حالاں کہ امریکا نے اس پر دہشت گردی کا ٹھپا لگا رکھا۔ لیکن وہ کشمیر کے معاملے میں ابھی تک امریکا ہی کا کھیل کھیل رہے ہیں اور وہ کیا ہماری عسکری قیادت بھی کشمیر کے معاملے میں امریکا کی کھینچی ہوئی لائن کو کراس کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہی چیز بھارت کو شہہ دے رہی ہے۔ بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کشمیر کے محاذ پر پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن اسے یہ بھی معلوم ہے کہ امریکا، برطانیہ، روس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کوئی بھی یہ محاذ برپا نہیں ہونے دے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی مہاجنی (مالیاتی) ادارے پاکستان کی طنابیں کھینچ لیں گے۔
ہمارے دوست کہتے ہیں کہ بے شک پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں بہت سے دبائو کا سامنا ہے اور ’’الکفر ملت واحدہ‘‘ کے مصداق دنیا بھر کی باطل قوتیں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ کھڑی ہیں لیکن اس کے باوجود اگر ہماری عسکری اور سول قیادت پُرعزم ہو اور بھارت کے خلاف ہر آپشن کو آزمانے کا پختہ ارادہ رکھتی ہو اور اس کا عمل اس کی نیت کی گواہی دے رہا ہو تو بہت کچھ ہوسکتا ہے اور کشمیریوں کی آزادی کا خواب دنوں میں پورا ہوسکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران ابتدا ہی سے بزدلی، کم ہمتی اور اندیشہ ہائے دور و دراز کا شکار رہے ہیں اور اب بھی اسی کیفیت سے دوچار ہیں ورنہ بھارت سے دبنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔