نقطہ نظر

140

’’وی آر کورونٹائن ‘‘
کورونا کے خوف نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سیلف کورونٹائن کے باعث ذہنی مریض کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان مخالف قوتیں ملک کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومتی ادارے مفلوج ہیں۔ ہر ادارے کی کارکردگی صفر ہے۔ طیارے کے حادثے سے جہاں سو سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ وہیں متاثرہ افراد کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے مگر کورونا نے ہر معاملے کو دبا دیا۔ وفاقی وزیر ہوا بازی نے جعلی ڈگری کا معاملہ اٹھا کر پوری دنیا میں پاکستانی پائلٹس کی ساکھ خراب کردی۔ یورپی ممالک، برطانیہ، امریکا، قطر ملائیشیا نے پی آئی اے پر پابندی لگا دی۔ دنیا کی بڑی بڑی انٹرنیشنل ائرلائن سے پاکستانی پائلٹس کو فارغ کردیا گیا۔ مگر اتنا اہم معاملہ جس میں ملک کی سب سے بڑی ائر لائن کو دیوار سے لگا دیا گیا کورونٹائن ہوگیا۔ پٹرول کی قیمت 25 روپے بڑھا دی گئی، مہنگائی میں اضافہ ہوا مگر معاملہ کورونٹائن ہوگیا۔ کے الیکٹرک کی کارکردگی صفر ہوکر رہ گئی ہے ہزاروں کے بل ادا کرنے کے باوجود دن میں بارہ بارہ گھنٹے لائٹ نہیں ہوتی، ملکی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے اس معاملے کو بھی کورونٹائن کر دیا گیا۔ گرین پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ کرنے کے دعویدار گرین پاسپورٹ کو مزید کورونٹائن میں ڈالنے کے محاذ پر ڈٹے نظر آرہے ہیں۔کشمیر کے معاملے کو بھی
کورونٹائن کردیا گیا۔ زندہ قومیں ہر آفت اور مصیبت کا بحیثیت قوم مقابلہ کرتی ہیں مگر پاکستان میں عوام ہر موقع پر پستے ہیں اور حکومت کو کرپشن کرنے کے نئے مواقع ملتے ہیں۔ اس وقت اسلامی دنیا میں ابھرتی ہوئی طاقت ترکی ہے جو ہر محاذ پر دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے۔ اسلام دشمن قوتوں کے مقابلے میں ڈٹا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر ہمارے حکمران پاکستان اور پاکستانی عوام کے لے یہ سلوگن بنا چکے ہیں ’’وی آر کورونٹائن‘‘۔
صائمہ عبد الواحد، کراچی۔