یہ ملک یرغمال ہے

341

حفیظ جا لندھری نے کہا تھا:
ارادے باندھتا ہوں، سوچتا ہوں، توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے
کچھ نیا کرنے میں یہی خدشہ رہتا ہے۔ کیے ہوئے کاموں کو دہرانے میں یہ مسئلہ نہیں رہتا۔ سوچنا پڑتا ہے اور نہ ارادے باندھنے پڑھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان بھی کچھ نیا کرنے کے بجائے افتتاح شدہ منصوبوں ہی کا دوبارہ افتتاح کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں۔ وہ اس کام کے ماہر ہیں۔ پچھلے دنوں ان کی تصویر شائع ہوئی جس میں وہ بھاشا ڈیم کا افتتاح کررہے ہیں۔ اس منصوبے کا پہلی بار افتتاح نواز شریف نے گزشتہ صدی میں کیا تھا۔ نواز شریف بھی عمران خان کے ایسے کارنامے دیکھ کر کیا سوچتے ہوںگے:
ایسا گرا کہ مجھ کو بھی رنجور کر گیا
دوڑا تھا میری سمت جو خنجر نکال کر
پرویز مشرف کے زمانے میں شوکت عزیز اور زرداری کے زمانے میں یوسف رضا گیلانی اس پامال مضمون کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ تاہم عمران خان کا افتتاح قدرے مختلف ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی افتتاح کو رونق بخش رہے تھے۔ قومی یکجہتی کا یہ مظاہرہ مائنس ون کی افواہوں کی تردید کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ یہ افتتاح سول ملٹری قیادت کے ایک صفحے پر ہونے کی بھولی ہوئی داستان کی بھی یاددہانی تھا۔ اس ناکام ترین بندوبست کے رخصت ہونے کی جو لوگ امید باندھ رہے تھے انہیں پیغام ہے کہ مزید کچھ دن حسرتیں شمار کرتے رہیں۔ افتتاح اس بات کا اعلان ہے کہ معیشت اور معاشرے کو جو بھی قیمت چکانی پڑے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے۔ معیشت اور معاشرے پر یاد آیا ایک گیلپ سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے پاکستان کے 21لاکھ گھرانوں نے گھر کی اشیا بیچ کر اپنی ضروریات پوری کیں۔ ہائے عمران خان نے کیا کیا وعدے کیے تھے۔ ان کی تقریر سنتے تھے تو اقبال یاد آجاتے تھے:
مارنگ شوخ و بوئی پریشیدہ نیستیم
مایئم آنچہ می روَد اندر دل و دماغ
ہم محض شوخ رنگ نہیں نہ ہی پریشان خوشبو! ہم تو وہ ہیں جو دل ودماغ کے اندر اتر جاتے ہیں۔
عمران خان کی حکومت کے کارنامے بیان کرنا نابینا کی رنگوں سے آشنائی بیان کرنا ہے لیکن پھر بھی سلیکٹرز بضد ہیں کہ عمران خان ہی ملک کے وزیراعظم رہیں گے۔ عوامی بپتا اور فریادوں پر کان دھرنا ان کا کام نہیں۔
اس افتتاح سے وزیراعظم عمران خان کو بھی نیا حوصلہ ملا ہے۔ اپنی کرسی پکی کرنے کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے متعلق افواہوں کا بھی خاتمہ کردیا۔ انہوں نے کہا ’’پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔ حکومت کی سمت درست ہے۔ عثمان بزدار ڈائنامک وزیراعلیٰ ہیں‘‘۔ ڈائنامک کے معنی ہیں متحرک۔ اب عثمان بزدار وسیم اکرم پلس ڈائنامک چیف منسٹر ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے بزدار کے تحرّک کے ثبوت اکٹھے کرنے کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم کی سند نظر میں رکھیے۔ اس سند پر سلیکٹرز کو اعتراض نہیں تو ہم آپ کون ہوتے ہیں۔ اتنی تعریف تو کوئی بیوی کی نہیں کرتا جتنی عمران خان بزدار کی کر چکے ہیں۔ بیوی کی تعریف کرنے سے متعلق کہا جاتا ہے ’’بیوی کی تعریف کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسان خارش وہاں کرے جہاں نہ ہورہی ہو‘‘۔
اس حکومتی استحکام کے بعد حکومت کی کرپشن زوروں پر ہے۔ عمران خان کرپشن کو ہر حد سے گزار کر فنا کرنا چاہتے ہیں۔ تازہ اسکینڈل یہ سامنے آیا ہے کہ مقبول کولسن کنسٹر کشن کمپنی جسے پشاور بی آر ٹی منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا اسے اسلام آباد میں اربوں روپے کے تین نئے ٹھیکے دے دیے گئے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت نے 2017 میں بی آر ٹی منصوبے کا آغاز کیا تھا جسے ایک برس میں مکمل ہونا تھا لیکن تین برس گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا جب کہ لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہوچکا ہے اس معاملے پر جب پشاور ہائی کورٹ نے تحقیقات کا حکم دیا توکمپنی کو بچانے کے لیے خیر پختوان خوا حکومت عدالت عظمیٰ میں چلی گئی۔ عدالت عظمیٰ نے کمال مہربانی سے تحقیقات روکنے کا حکم دے دیا۔ اس کمپنی کو پنجاب میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے ایک پیکیج کا ٹھیکہ دیا گیا تھا لیکن ناقص کارکردگی کی بنا پر شہباز شریف نے اس کمپنی کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جس کمپنی کے خلاف پرچہ کٹنا چاہیے تھا، مالکان کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا اس کمپنی کو اربوں روپے کے ٹھیکے کیوں دیے جارہے ہیں۔ اس کمپنی کے تحریک انصاف حکومت کے اکابرین اور طاقت ور حلقوں سے انتہائی گہرے تعلقات ہیں۔ بلیک لسٹ کمپنی ہے، اس کے خلاف انکوائر ی ہورہی ہے، پشاور ہائی کورٹ اور عدالت عظمیٰ میں ان کی بدعنوانیوں پر مقدمے چل رہے ہیں نیب بھی کسی نہ کسی دن متحرک ہو جائے گی اس کے باوجود اس کمپنی کو نئے ٹھیکے دے دیے گئے۔ دنیا میں کم ہی ایسی پاور فل کمپنیاں ہوں گی کہ اتناسب کچھ کرنے کے باوجود حکومت اور طاقتور ادارے سب اس کی حمایت میں یک زبان ہیں اور اسے نواز رہے ہیں۔
دوسری کرپشن 10ارب درخت لگانے کے پروجیکٹ کی سامنے آئی ہے۔ یہ منصوبہ ابتدا ہی سے کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے۔ 2014-15 میں ہی آڈیٹر جنرل آف پا کستان کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں پودوں کے حصول کے لیے ٹھیکے مبینہ طور پر میرٹ کے برعکس دیے گئے جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ عرصہ پہلے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی جسے جلد ہی تحلیل کردیا گیا تھا۔ اب ایک اور کمیٹی بنادی گئی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے ہر منصوبے کے متعلق بے حدوحساب کرپشن سامنے آرہی ہے۔ اس منصوبے میں کی گئی کرپشن کی تحقیق کے لیے جب بھی انکوائریاں تشکیل دی گئیں انہیں تحلیل کردیا گیا۔ اس منصوبے میں قومی خزانے کے زیاں کا نیا جواز یہ پیش کیا جارہا ہے کہ ٹڈی دل نے سب کچھ تہس نہس کردیا۔ محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ ہم نے درخت لگائے تھے لیکن انہیں ٹڈی دل نے تباہ کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے پرانے لگائے گئے درخت ختم ہوگئے اور نئے درخت لگائے نہیں جا رہے۔ ہم درخت نہیں لگا سکتے کیوں کہ جہاں ہم جاتے ہیں ٹڈی پہلے سے موجود ہوتی ہے۔
نیب اپوزیشن کے خلاف آئے دن نئے نئے مقدمات کھول رہی ہے، مہینوں کوششوں کے باوجود جن میں کچھ ثابت نہیں ہوتا لیکن تحریک انصاف حکومت کے جن منصوبوں میں کرپشن گٹر سے باہر ابلی پڑ رہی ہے، ہوشربا بد عنوانی کے ان معاملات کی کسی کو بدبو محسوس نہیں ہورہی۔ پشاور میٹرو، مالم جبہ اور بلین ٹری منصوبہ ہی نہیں، وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس گزشتہ پانچ سال سے زیرالتوا ہے۔ اس کیس کی 70سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں۔ اسلام آباد پی ٹی وی حملہ کیس وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے خلاف درج ہے۔ اس پر بھی کوئی کارروائی نہیں۔ کارروائی ہوگی لیکن تحریک انصاف حکومت ختم ہونے کے بعد۔ جب تک حکومت میں ہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ چار کروڑ کی لینڈ کروزر بھی تیس لاکھ میں خریدی جاسکتی ہے۔ یہ ملک یرغمال ہے۔