لیبیا میں مصر اور ترکی کے مابین عسکری تصادم کا خدشہ

278
طرابلس/ قاہرہ/ انقرہ: متحدہ وفاق حکومت کی فوج فیصلہ کن حملے کے لیے سرت کے باہر مورچے سنبھال چکی ہے‘ مصری پارلیمان میں فوجی صدر جنرل عبدالفتاح سیسی کو ہمسایہ ملک میں عسکری مداخلت کا اختیار دینے پر بحث ہورہی ہے‘ مالٹا، ترکی اور لیبیا کے وزرا ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کررہے ہیں

قاہرہ/ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں حکومت کے حلیف ترکی اور باغیوں کے مددگار مصر کے درمیان عسکری تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مصری پارلیمان نے فوجی صدر عبدالفتاح سیسی کو لیبیا میں عسکری مداخلت کا اختیار دے دیا ہے۔ مصر نے لیبیا کے شہر سرت کو سرخ لکیر قرار دیا تھا۔ اس نے اس شہر کے اطراف جاری پیش رفت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ مصدقہ رپورٹوں کے مطابق ترکی کی عسکری حمایت یافتہ لیبیا کی متحدہ وفاق حکومت کی فوج اس ساحلی شہر کی سمت پیش قدمی کے لیے اکٹھی ہو رہی ہے۔ مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے واضح کیا کہ لیبیا میں صورت حال کی پیش رفت، بیرونی مداخلت، ملیشیاؤں کی کوششیں اور غیر ملکی جنگجوؤں کا لایا جانا، یہ تمام امور مصر کی قومی سلامتی اور دیگر عرب ممالک کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن رہے ہیں۔ مصر اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ سیاسی حل تک پہنچا جائے اور لیبیا کے داخلی فریقوں کے درمیان موافقت کا راستہ تلاش کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں لیبیا کی سرزمین کی وحدت، امن و استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب ترکی نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے چنار ساخت کے اسکاریا ٹی 22 میزائل لیبیا میں وفاق حکومت کو بھیجے ہیں۔ اس سے قبل شام میں ان میزائلوں کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ یہ بات تُرک عسکری ذرائع کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔ ترکی کے اخبار ملت کے مطابق ترک فوج نے وفاق حکومت کے لیے لوجسٹک سپورٹ اور عسکری ساز و سامان بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے انقرہ نے لوک ہیڈ سی 130 ای اور اے 400 ایم ساخت کے 2 کارگو طیارے لیبیا میں الوطیہ کے فوجی اڈے اور مصراتہ شہر بھیجے۔ لیبیا بھیجے گئے میزائلوں کو سرت شہر کے قریب رکھا گیا ہے۔
طرابلس/ قاہرہ/ انقرہ: متحدہ وفاق حکومت کی فوج فیصلہ کن حملے کے لیے سرت کے باہر مورچے سنبھال چکی ہے‘ مصری پارلیمان میں فوجی صدر جنرل عبدالفتاح سیسی کو ہمسایہ ملک میں عسکری مداخلت کا اختیار دینے پر بحث ہورہی ہے‘ مالٹا، ترکی اور لیبیا کے وزرا ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کررہے ہیں