آسام میں ہول ناک بارش اور بدترین سیلاب‘ 84 افراد ہلاک

227
آسام: امدادی کارکن سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے کارروائی کررہے ہیں

نئی دہلی ؍ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست آسام میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے 84 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ اس دوران تقریباً 27 لاکھ افراد بے گھر ہوکر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق خرابی موسم، سیلاب اور کورونا کی سختیوں کے باعث امدادی کارکنوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارتی ریاست آسام کو ہر سال مون سون میں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم حکومتی سطح پر کیے گئے انتظامات انتہائی ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ ان دنوں بھارت کے شمال مشرقی علاقے شدید بارش کی لپیٹ میں ہیں جب کہ طوفانی بارش اور آبادیوں میں پانی بھر جانے سے سیکڑوں گھر تباہ ہونے کے ساتھ ہزاروں ایکڑ اراضی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب کی زد میں آکر 9 سے زائد جانور بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور ٹیمیں امدادی کارروائی میں مصروف ہیں۔دوسری جانب چین کے جنوبی اور وسطی علاقے شدید بارش کے بعد سیلاب سے ڈوب گئے جب کہ ووہان شہر میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ووہان سمیت چین کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں سیلاب کے باعث درجنوں افراد ہلاک اور لاپتا ہو چکے ہیں۔ مشرقی صوبے جیانگسو اور زیانگجی سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں علاقوں میں شامل ہیں۔ اس دوران ہزاروں چینی فوجی اور فائر بریگیڈ کے اہل کار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ جنوبی ایشیا میں مون سون بارش اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے، جس کے نتیجے میں بنگلا دیش، بھارت اور نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 220 سے تجاوز کر چکی ہے۔