آمریت کا اندیشہ نہیں جمہوریت کو خطرہ نہیں

323

اس وقت کراچی شہر اور خاص کر اندرون سندھ مسائل کا گڑھ بن چکے ہیں اور بلاول زرداری وفاق کو فتح کرنے کی کوشش میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ کراچی شہر کہ مسائل کے حل پر اس وقت صرف جماعت اسلامی واحد جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جو کراچی کے عوام کے مسائل بے روزگاری لودشیڈنگ پر حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس وقت سندھ میں حکومت کا نام ونشان نظر نہیں آتا، سندھ میں تو ہم کئی سال سے عوام کی منتخب جمہوری حکومت کی تلاش میں ہیں عوام مسائل میں گھرے ہوئے ہیں مگر کہیں شنوائی نہیں ہورہی، پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی صرف دو سال کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو پچھلے برسوں کے مقابلے میں مسائل میں صرف اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ چند روز پہلے فنگشنل لیگ کی رکن صوبائی اسمبلی نصرت سحر عباسی نے سندھ حکومت کوآئینہ دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر افسوس کہ سندھ کے اقتدار پر براجمان حکمرانوں کا ضمیر نہیں جاگ سکا۔
بلاول زرداری جو ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر تنقید کرتے تھے اپنے جلسوں میں میاں برادران کو کرپٹ نااہل نالائق کے نعرے لگواتے رہے اسی طرح شہباز شریف پیٹ پھاڑ کر سڑکوں پر گھسیٹنے، لوٹی دولت واپس لانے کا راگ الاپتے رہے آج یہ دونوں جمہوریت بچانے کے لیے سیاسی کزن بن گئے ہیں، ن لیگ کے دور میں بھی کراچی شہر اور سندھ مسائل سے جل رہا تھا صرف اتنا ہی نہیں بلکہ 2007 محترمہ کی شہادت کے بعد بنے والی پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے تو اپنے دور اقتدار میں صوبوں کے مسائل پرتوجہ دینے کے بجائے صرف اٹھاویں ترمیم کا غیر موثر کارنامہ انجام دیا اگر دیکھا جائے تو اس ترمیم کے نفاذ میں بھی پیپلزپارٹی نے اپنے مفاد کو ترجیح دی کراچی جس کو پاکستان کا معاشی حب سمجھا جاتا ہے اس کی ملکیت کو پیپلزپارٹی نے اٹھاویں ترمیم کے ذریعے ہائی جیک کیا ہے جب یہ شہر آپ کو کما کر دے رہا ہے تو اس شہر کے مسائل اس کی ترقی وخوشحالی کو کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے۔
اس شہر کا ۳۵ برس تک مینڈیٹ رکھنے والی ایم کیو ایم تو کراچی آپریشن کے بعد سر براہی کی جنگ میں ایسی ٹوٹی ہے کہ شاید اب چند سال بعد اس جماعت کا ملکی سیاست میں وجود اختتام پزیر ہوجائے کیوں کہ ان کی نااہلی کی وجہ سے آج کراچی شہر مسائل کی دلدل میںدھنستا جارہا ہے۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے ان کا منظم ووٹ بینک بڑی تعداد میں فنگشنل لیگ کو جوائن کر رہا ہے۔ اس وقت جمہوریت نہیں چند کرپٹ افراد کی سیاست خطرے میں ہے جس کی وجہ سے کل کے سیاسی دشمن سیاسی کزن بننے جارہے ہیں۔ کورونا وائرس کی ممکنہ کمی کے بعد ملک میں معاشی بحران سر اُٹھانے جارہا ہے ایسے میں حکومت کے تمام تر اقدامات غیر موثر نظر آرہے ہیں۔ آٹے چینی بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے حکومتی اعلان کے باوجود مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے عوامی مسائل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور حکومت احتساب کا غیر موثر راگ الاپ کر اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا نقصان عوام کو اور فائدہ اپوزیشن کو ہوتا نظر آرہا ہے۔
اب خان صاحب کے پاس ملک و قوم کی ترقی وخوشحالی کے صرف دو راستے ہیں یا تو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں نظریہ ضرورت کے تحت تمام کرپٹ سیاستدانوں کی عام معافی کا اعلان کریں جس سے یقینا ملک کو مزید نقصان کا خطرہ اپنی جگہ موجود رہے گا یا پھر وزیر اعظم چھ ماہ کے لیے عوامی مسائل کو روک کر تیر رفتار غیر جانبدار شفاف احتساب کا آغاز کریں، تحقیقاتی اداروں کو اتنا موثر بنایا جائے کہ وہ ٹھوس شواہد عدالتوں میں پیش کر کے کرپٹ افراد کو سزائیں دلا سکیں۔ اگر خان صاحب بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی والا احتساب چاہتے ہیں تو خدارا یہ احتساب کا ڈراما فوری بند کیا جائے۔
کڑے احتساب کا راگ یہ قوم برسوں سے سنتی آئی ہے اگر خان صاحب دو سالہ اقتدار میں کڑے احتساب کی بنیاد نہیں رکھ سکے ہیں تو مزید وقت کی بربادی نہ کی جائے اور عوام کو درپیش مسائل پر توجہ دی جائے، خان صاحب کا اقتدار کرپٹ ملک کو لوٹنے والے بیرون ملک اثاثے بنانے والوں کا احتساب کر سکے گا یا نہیں اس کا فیصلہ کرنے میں اب صرف دو ڈھائی سال کا وقت باقی ہیں جس کہ بعد فیصلہ عوام کریں گے۔
ن لیگ پیپلزپارٹی ۳۵ برس میں مفاد پر کام کرتی نظر آئی ہیں روٹی کپڑا مکان تو دور یہ اس قوم کو تحفظ فراہم نہیں کر سکے ہیں یہ دونوں جماعتیں جمہوریت بچائو کی آڑ میں آمریت کو پروان چڑھانے میں مصروف نظر آتی ہیں۔ آج ۱۳ برس گزار چکے محترمہ شہید کے قاتلوں کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکا جس پر بلاول زرداری کی خاموشی لمحہ فکر ہے اسی طرح ایک سال سے زائد ہوگیا ہے جج اسکینڈل ویڈیو کے فیصلے پر مریم نواز اور شہباز شریف کی خاموشی ن لیگ کے نظریاتی کارکن کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے اگر قوم ان کے اس رویے سے بھی سبق نہیں حاصل کر سکی تو تباہی بربادی اس قوم کا مقدر ہے ن لیگ اور پیپلزپارٹی اور ان کا ساتھ دینے والے مولانا صاحب جو ایک بار ان دونوں جماعتوں کی وجہ سے قوم کے سامنے رسوا ہوچکے ہیں۔ تمام اپوزیشن کی جماعتوں کا ایک ہی ایجنڈا صرف مفادات کی سیاست کو آزاد کرانا۔ یقینا اس ملک کو آمریت نے بڑا نقصان پہنچایا ہے مگر یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ اس ملک کو ذاتی مفادات کی جمہوریت نے آمریت سے بڑھ کر نقصان پہنچایا ہے۔
جو قومیں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتیں اور ان سے سبق حاصل نہیں کرتیں ناکامی ان کا مقدر بن جاتی ہے ہمیشہ وہ ہی قومیں ترقی وخوشحالی کی جانب تیزی سے گامزن ہوتی ہیں جو ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں جس کے لیے لیڈر شپ کا صادق وامین محب وطن جرأت مند ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ آج نہ آمریت کا اندیشہ ہے اور نہ ہی جمہوریت کو خطرہ ہے بلکہ آج چند کرپٹ افراد کی سیاست خطرے میں ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن منظم ہونے جارہی ہے۔