کورونا فنڈ کہاں گیا؟ این ڈی ایم اے اور وزارت خزانہ حکام طلب

218

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے کورونا فنڈز پر این ڈی ایم اے اور وزارت خزانہ کے حکام کو طلب کر لیا۔

سینیٹر مشتاق احمد خان کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کااجلاس ہوا جس میں سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یورپ، افریقا اور امریکاکوسینیٹائزربرآمد کر رہے ہیں کورونا پرسائنس وٹیکنالوجی اوردفاعی ادارےکی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمد نے استفسار کیا کہ کوروناکافنڈکہاں گیا؟، ایک وفاقی وزیرکہتاہےچیرمین این ڈی ایم اےکوفون کیاتوانجکشن ملا، کیا این ڈی ایم اے ریسرچ کا ادارہ ہے؟

سیکرٹری وزارت سائنس وٹیکنالوجی نے بتایا کہ حکومت نےوبا کےدوران وزارت سائنس کےذیلی اداروں کواضافی فنڈنہیں دیے،جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں این ڈی ایم اے کو اور وزارت خزانہ کو بلایا جائے۔

کورونا ویکسین کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت سائنس کے اداروں کی اب تک خلا میں ہی ریسرچ ہے جب ریسرچ کا فائدہ عوام کو نہیں ہورہا تو پھر یہ سب کس لیے ہے؟

ٹڈی دل کے فصلوں پر حملوں کے سدباب کے سوال پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ ٹڈی دل کا کیمیکل چین سےدرآمد کیا گیا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر ٹڈی دل تلف نہ ہوئے تو خطہ غذائی قلت کا شکار ہوسکتا ہے۔