“آیا صوفیہ سے متعلق فیصلے کا حق صرف ترکی کو حاصل ہے”

264

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ آیا صوفیہ سے متعلق حتمی فیصلے کا حق صرف ترکی کو حاصل ہے، تمام ممالک فیصلے کا احترام کریں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ وہ جگہ ہے کہ جہاں فتح استنبول کے بعد فاتح سلطان مہمت نے پہلی نماز جمعہ ادا کی اور اسے فتح کی علامت کے طور پر مسجد میں تبدیل کیا۔یہی وجہ ہے کہ  ہمارے معاشرے کے ذہن و دل میں اس جگہ کا ایک ناقابل تنسیخ مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1934 میں آیا صوفیہ کی عجائب گھر میں تبدیلی کے فیصلے نے ملت کو آزردہ کیا، اس مقام کا اپنی اصل شناخت کی طرف واپس پلٹنا ضروری تھا۔آیا صوفیہ کی حیثیت سے متعلق حتمی فیصلے کا اختیار صرف ترک ملت کو ہے اور کسی کو نہیں ۔

لیبیا کے سیاسی بحران پر بات کرتے ہوئے اردان نے کہا ہے کہ قابض حفتر اور اس کے حامیوں کا قبضہ پلان کامیاب نہیں ہوسکا۔ترکی اور لیبیا کے درمیان سمجھوتے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس سمجھوتے کے طفیل ترکی نے نہ صرف مشرقی بحرِ روم میں اپنے حقوق اور مفادات کو ضمانت میں لے لیا ہے بلکہ لیبیا میں اپنے بھائیوں کا بھی ساتھ دیا ہے۔

صدر اردوان نے کہا ہے کہ سیاسی و اقتصادی لحاظ سے لیبیا کی مضبوطی شمالی افریقہ اور یورپ دونوں کے لئے سکون کا باعث ہوگی۔