دعوؤں کے باوجود لوڈشیڈنگ؛جماعت اسلامی کا گورنر سندھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

180

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی حکومت کی جانب کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے اعلان کے باجود طویل لوڈشیڈنگ پر گورنرسندھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کالوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافے،اووربلنگ اور ٹیرف میں ظالمانہ اضافے کوصرف مؤخر کیے جانے پر حکومت وکے الیکٹرک کے خلاف ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی کی عوامی جدوجہد کے حوالے سے آئندہ کے اقدامات اور لائحہ عمل کے اعلان کے لیے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ جماعت اسلامی نے شاہراہ فیصل پر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر دھرنا مؤخر کردیا تھا، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور گورنر کو اخلاقی طور پر استعفی دینا چاہیے۔۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور گورنر کو اپنی ہی حکومت کے خلاف سنجیدہ احتجاج کرنا چاہیے، سوئی گیس 290mmcگیس کی فراہمی کے باجود لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، کے الیکٹرک سوئی سدرن گیس کمپنی کی 116 ارب روپے کی نادہندہ ہوچکی ہے اگر کوئی شہری بل ادا نہ کرے تو بجلی کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے لیکن کے الیکٹرک کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، کےالیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے کے بجائے آئل کی فراہمی میں اضافہ کردیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وفاقی حکومت عوام کے ساتھ دھوکا اور فراڈ کررہی ہے،  کے الیکٹرک کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج کے الیکٹرک کو سپورٹ کرنا تھا اسی لیے وفاقی حکومت اور ارکان اسمبلی جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہیں اخلاقی طور پر استعفی دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ  بد ترین پرائیوٹائزیشن سے قومی خزانے کے اربوں روپے لوٹے گئے ہیں، حکومت اور سپریم کورٹ کا کام ہے صاف و شفاف تحقیقات کی جائے،ایم کیو ایم نے کے الیکٹرک کے خلاف کوئی سنجیدہ احتجاج نہیں کیا ایم کیو ایم کے لوگ وفاق میں شریک ہیں انھیں کراچی کے مسئلہ پر بات کرنی چاہیے جب کہ الیکٹرک ڈیوٹی کے نام پر سندھ حکومت کو 10 ارب روپے دیے جاتے ہیں  جماعت اسلامی کے الیکٹرک کے خلاف تحریک کو آگے چلائیں گے، شہر بھر میں 400 سے زائد مقامات پر سڑکوں اور میں چوراہوں پر دھرنے دیے جائیں۔

 جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے امیر ورکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  لیاری میں 12 سے 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، جماعت اسلامی کی ہدایت پر لیاری سمیت شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔