حکومت لڑائو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،اسداللہ بھٹو

128

ٹنڈوجام(نامہ نگار) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق رکن قومی اسمبلی اسداللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے انہیں عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں عوام اتنا تنگ نہ کیا جائے گا ان غصہ طوفان بن جائے وزیراعظم ارطغرل ڈرمہ ہی نہ دیکھیں ترکی وزیراعظم کے نقش قدم پر بھی چلیں،سندھ میںجعلی ڈومسائل کی تحقیقات کرکے انہیں منسوخ کیا جائے جو مسائل حل ہوچکے ہیں انہیں دوبارہ اُٹھنا فتنہ اور فساد پیدا کرنے کے مترادف ہے ایس او پیز کے تحت تعلیم
ادارے باآسانی کھولے جا سکتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے امیر جماعت اسلامی ٹنڈوجام حافظ غیور احمد کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد بات چیت کے دوران کیا۔اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات سندھ مجاہد چنا ،ناظم عمومی محمددین منصوری ،مقامی رہنماسہیل شارق ،حماد علی بہادر طاہر اسامہ سلیم کے کے اور وعبدالحمیدشیخ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجود حکومت ہر شعبے میں بری طرح ناکام ہوئی اور کرپشن میں مہنگائی میں بے روزگاری میںپہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے کورونا وائراس کی وجہ سے جن سہولتوں کو عوام کو دینے کا وعدہ کیا گیا تھا سب اس کے الٹ کیا گیا پیٹرول کی قیمت بجلی کی قیمت آٹے کی قیمت چینی کی قیمت دودھ کی قیمت سب میں اضافہ کردیا گیا لوڈشیڈنگ میں کمی کے بجائے اضافہ کردیا گیا اس طرح اس آزمائش کی گھڑی میں موجودہ حکومت نے عوام کو ریلیف دیا ہے انہوں نے کہا عوام کو اس حد تک تنگ نہ کیا جائے کہ ان کا غصہ طوفان بن جائے اور اس طوفان کا مقابلہ حکومت نہیں کر سکے گی انہوں نے کہا کہ اپنی پے در پے ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اسے مسائل کو چھڑا جارہا ہے جو مسائل مدتوں پہلے حل ہوچکے۔ انہوں نے کہا محسوس ایسا ہوتا ہے کہ حکومت لڑو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے وہ عوام کو ان مسائل میں الجھا کر اپنی لوٹ مار میں لگی ہوئی ہے انہوں نے کہا سندھ میں جعلی ڈومسائل کا مسلہ نہایت اہم ہے لیکن اب محسوس ہورہا ہے حکومت اپنے اہم افراد کو اس میں ملوث دیکھ کر اسے سرد خانے میں ڈالنے کی سازش کر رہی انہوں نے کہا اگر ایسا ہوا تو یہ سندھ کے نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہوگا انہوں نے کہا ایس او پیز کے تحت با آسانی تعلیمی اداروں کو کھولا جاسکتا ہے انہوں نے اس وقت پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ انتہائی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں انہیں چار ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں حکومت چاہیے ایسے تمام اساتذہ کو احساس پروگرام کے تحت پرائیوٹ اسکولوں سے لسٹ لے کر انہیں تنخواہیں ادا کریں یہ حکومت پر فرض ہے ورنہ انہیں فوری اسکول کھولنے کی ایس او پیز کے تحت اجازت دی جائے انہوں نے کہا سرکاری ملازمین کے سالانہ انکریمنٹ نہ دینے کی بات ہورہی ہے انہوں نے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پہلے ہی اضافہ نہیں کیا گیا اب مزید ان جائز حق جو بنتا ہے اگر وہ بھی نہیں دیا گیا تو اس سے بے چینی پیدا ہوگی انہوں نے کہا اس وقت ملک شدید قسم کے سیاسی بحران سے گزر رہا ہے ملک کے لیے تبدیلی کا نعرہ عوام کے لیے بہت سخت ثابت ہوا ہے جس کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے انہوں نے کہا ملک میں اگر ملک میں تبدیلی آسکتی اور ہر ایک کو خوشحال اور پر سکون زندگی گزارنے کے کا موقع مل سکتا ہے تو وہ راستہ صرف قرآن اور سنت کا راستہ ہے ملک میں اسلامی نظام کے نافذ کرنے کا راستہ ہے اور اسی کے لیے جماعت سرگرم عمل ہے ۔دریں اثنا ء اسداللہ بھٹو نے ٹنڈوجام کے سینئر صحافی محمد اختر سے ان کی والدہ کے انتقال پر اور ظفر انجم کے والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی جبکہ ٹنڈوجام پریس کلب کے سرپرست اعلیٰ مظہر علی لاشاری کے بھتیجے کے قتل پر ان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے قاتلوں کو جلدازجلد گرفتار کیا جائے ۔