سری لنکن کرکٹر کیلئے فکسنگ کے سخت قوانین نافذ کرنے کا فیصلہ

146

کولمبو (جسارت نیوز) سری لنکن کرکٹ بورڈ نے میچوں میں بدعنوانی اور میچ فکسنگ کی روک تھام کیلیے اپنے کھلاڑیوں پر سخت کوڈ آف کنڈکٹ لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کھیلوں میں کرپشن اور میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر سخت سزا دی جا سکے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر کھیل مہندا نندا الوتھ گمگے نے الزام عائد کیا تھا کہ 2011ء میں بھارت اور سری لنکا کے مابین ہونیوالے آئی سی سی ورلڈ کپ کا فائنل فکس کیاگیا تھا جس پر سری لنکن بورڈ کی جانب سے تحقیقات بھی کی گئی تاہم وزارت کھیل نے اس معاملے پر ہونے والی انکوائری کو روک دیا جبکہ اسپورٹس ایکٹ 2019ء کے تحت وزارت کھیل کے اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ کی جمع کرائی گئی رپورٹ بھی نظر انداز کردی گئی۔سابق بیٹسمین اروندا ڈی سلوا، کمار سنگا کارا، اپل تھرنگا سمیت دیگر کھلاڑیوں سے کئی گھنٹوں تک تفیش میں بھی پولیس کو میچ فکسنگ سے متعلق کسی قسم کا کوئی اشارہ نہیں مل سکا۔ ذرائع کے مطابق کرکٹ بورڈ میچ فکسنگ کے الزامات اور کھلاڑیوں کی نظم وضبط کے معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے نیا ضابطہ اخلاق نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔قانونی ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ کھیلوں سے وابستہ افراد کو کسی بھی انکوائری کی صورت میں تفتیش کاروں کو پیش کرنے کے لئے اپنے اثاثوں اور اکاؤنٹس کا ریکارڈ برقرار رکھنا چاہئے اور یہ کھیلوں سے متعلق جرائم کی روک تھام کیلئے حال ہی میں بنائے گئے قانون میں ایک تقاضا بھی ہے۔نئے ایکٹ کے تحت قائم خصوصی انوسٹی گیشن یونٹ کو کسی بھی شخص ، اس کی اہلیہ او ر بچوں کے اثاثوں اور اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ کھیلوں میں کرپشن اور میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر سخت سزا دی جا سکے گی۔