تعلیمی اداروں میں نظام بہتربنائے بغیر کھیلوں کی ترقی ممکن نہیں،لیاقت علی

138

اسلام آباد(جسارت نیوز ) قومی بیڈمنٹن ہیڈ کوچ لیاقت علی نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے نظام کو بہتر بنائے بغیر ملک میں کھیل ترقی نہیں کر سکتے، گزشتہ روزسرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گراس روٹ سطح پر بیڈمنٹن کے کھیل کیلیے تعلیمی اداروں میں 12 سے 14 سال کی عمر کے بوائز اور گرلز کھلاڑیوں کو کھیلوں کی تربیت دینا ضروری ہے جس سے وہ جلدی سیکھ سکتے ہیں اور اس عمر میں بچوں میں سیکھنے کی دماغی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی نشوونما کو بڑھانے کے لئے کھیلیں بہت ضروری ہیں جس سے ایک صحت مند معاشرہ جنم لیتا ہے۔ انہوں نے طلباء و طلبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کو تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں آئی او سی کے کوالیفائیڈ کوچ لیاقت علی نے کہا کہ فیڈریشین اکیلی کچھ نہیں کر سکتیں جب تک حکومت معاونت نہ کرے، حکومت کو اسپورٹس فیڈریشن کو فنڈز دیتے ہوئے ان پر فنڈز میں چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہوگا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح پر کھیلوں میں تعلیمی اداروں کے ذریعے ہی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بیڈمنٹن کے کھیل میں بے پناہ میڈلز حاصل کر رکھے ہیں اور حکومت کو اس کھیل پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیاقت علی نے مزید کہا کہ ان کو بچپن سے بیڈمنٹن کھیلنے کا شوق تھا اور وہ پاکستان بیڈمنٹن کے سیکرٹری جنرل واجد علی چوہدری کے بھی کوچ رہ چکے ہیں۔ واجد علی نے بھی بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فیڈریشنز کے ساتھ مل کر ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں تعلیمی اداروں میں نیشنل ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام متعارف کروانا چاہیے جس میں بچے تربیت حاصل کر سکیں۔