پی سی بی کو بھارتی بورڈ سے کوئی مسئلہ نہیں ،احسان مانی

122

لاہور(جسارت نیوز) چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہاکہ ایشیاء کپ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے ایسے حالات میں ملتوی کیا گیا جس پر کنٹرول کسی ممبر ملک کے بس کی بات نہیں تھی،ہم نے کچھ عرصے قبل سری لنکا سے میزبانی کے تبادلے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہاکہ ایشیاء کپ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے ایسے حالات میں ملتوی کیا گیا جس پر کنٹرول کسی ممبر ملک کے بس کی بات نہیں تھی،ہم نے کچھ عرصے قبل سری لنکا سے میزبانی کے تبادلے پر رضامندی ظاہر کی تھی، وجہ وہاں کی صورتحال خطے کے دیگر ملکوں کی بانسبت بہت بہتر ہونا بنی،التوا کے فیصلے اور نئے شیڈول پر سب ارکان کا اتفاق ہے، اس کا پاکستان کو بہت کم نقصان ہوگا، ایونٹ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ حاصل ہونیوالے فنڈز چھوٹے ملکوں میں کھیل کو فروغ دینے میں کام آتے ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے بورڈ کو مالی نقصان کے سوال پر انھوں نے کہا کہ بنگلا دیش کیخلاف ایک ٹیسٹ اور ایک ون ڈے ملتوی کرنا پڑا، پی ایس ایل 5 کے میچز ملتوی ہوئے،ہماری اگلی سیریز سال کے آخر میں زمبابوے کیخلاف ہے، اس لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ زیادہ محدود اوورز کے میچز شیڈول کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کرکٹ صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں بلکہ پلیئر کی مہارت کا امتحان کھیل کا اہم حصہ ہے۔احسان مانی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مقابلے دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں لیکن بھارتی حکومت کی پالیسی کے سبب روایتی حریف ٹیمیں صرف آئی سی سی اور اے سی سی ایونٹس میں ہی مدمقابل ہوتی ہیں، دونوں ملکوں کے میچزعالمی کرکٹ کے مفاد میں ہوںگے تاہم ہم فی الحال کوئی باہمی سیریز اپنی پلاننگ میں زیر غور نہیں لارہے۔ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال میں ایک بار پھر ’’بگ 3‘‘ کی واپسی کے سوال پر احسان مانی نے کہا کہ پی سی بی کے بی سی سی آئی سے کوئی مسائل نہیں ہیں،مجھے کوئی خدشہ نہیں کہ چند ملک کھیل کی مجموعی بہتری کے بجائے اپنے مفادات کو مقدم رکھیں گے، وقتی مفاد کے بجائے مل جل کر عالمی کرکٹ کی فلاح کے لیے کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کرکٹ میں کرپشن اور فکسنگ کیخلاف قانون سازی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔