صوبوں کے حقوق پر ڈاکا این ایف سی ایورڈ ختم

121
اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد(نمائندہ جسارت+آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے بتایاہے کہ وفاقی کابینہ نے این ایف سی ایوارڈ کی جگہصوبائی فنانس کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دے دی ۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں این ایف سی ایوارڈ،کے الیکٹرک ، کورونا وائرس کی صورتحال اور عیدالاضحی کے حوالے سے ایس او پیز پر گفتگو کی گئی ۔ وفاقی وزیر اسدعمر اور امین الحق نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے ٹیرف بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو پہلے بجلی نہیں مل رہی، اوپر سے قیمتیں بڑھانا نامناسب ہے جس پر وزیراعظم نے کے الیکٹرک سے متعلق مشاورتی اجلاس کل جمعرات کو دوبارہ طلب کرلیا جس میں سندھ حکومت اور کے الیکٹرک کے نمائندوں کو بھی طلب کیا گیا ہے ،اجلاس میں کراچی میں ظالمانہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا ۔کابینہ نے کراچی کے لیے بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ موخر کردیا۔ علاوہ ازیں وفاقی وزرا نے درآمدی گیس کی مد میں 73 ارب روپے گھریلو اور کمرشل صارفین سے وصول کرنے کی بھی مخالفت کی جس پر کابینہ نے گیس صارفین پر 73 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تجویز بھی موخر کر دی۔وزیر ریلوے شیخ رشید نے ہوٹلز اور مارکیٹس کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کام کرنے والے غریب ملازم بہت متاثر ہو رہے ہیں، ایس او پیز کے تحت کھولنے کی اجازت دی جائے جس پر وزیراعظم نے معاملہ وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر کے سپرد کردیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کا معاملہ بھی کابینہ میں اٹھایا اور انہوں نے جے آئی ٹی کے معاملے پرکابینہ کو بریفنگ بھی دی۔وفاقی کابینہ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس اور نیشنل ایکری ڈیٹیشن کے کونسل کے ڈی جیز کے تقرر کی منظوری دے دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے شہریوں سے ایک بار پھر عیدالاضحی پر احتیاط کی اپیل کی کرتے ہوئے مویشی منڈیوں میں بہر صورت ضابطہ کار پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے میڈیا کوبتایاکہ کابینہ نے سرکاری ملازمین کو پنشن کی ادائیگیوں میں مشکلات ختم کرنے کے لیے پنشن فنڈ اور حج کے حوالے سے خصوصی فنڈکے قیام کی منظوری دی ،بیرون ملک قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے مکمل قانونی معاونت کی فراہمی اور ان ممالک سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستانیوں کی رہائی کے لیے تمام سفارت خانوں کو ہدایات کی گئی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گیس کی قیمتوں اور کے الیکٹرک سے متعلق آئندہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ سامنے آئے گا۔ شبلی فراز نے بتایا کہ وزیراعظم نے سب سے پہلے انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کے بارے میں باز پرس کی جس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اوراگلے کابینہ اجلاس میں پیش کردیا جائے گا۔علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے کامیاب جوان پروگرام کا دوسرا مرحلہ فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی عثمان ڈار سے ملاقات کے بعد پروگرام کی منظوری بھی دے دی ہے،حکومت نے دوسرے مرحلے کے لیے 25 ارب روپے جاری کردیے ، حکومتی ہدایات کے مطابق قرض پر مارک اپ میں بھی کمی کر دی گئی ہے، دوسرے مرحلے کے لیے مارک اپ 6 سے کم کرکے 3 فیصد کر دیا گیا ہے، قرض کے زیادہ سے زیادہ حد 50 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ کر دی گئی۔عثمان ڈار کا کہنا تھاکہ نوجوان اپنے کاروبار کے لیے 1 لاکھ سے ڈھائی کروڑ تک کا قرض لے سکیں گے، فیصلہ کورونا کے باعث معیشت کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر کیا گیا، جو نوجوان مالی مشکلات کا شکار ہیں وہ اس پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، نوجوان صرف کاروبار کا منصوبہ بنائیں، حکومت بغیر گارنٹی کے قرض دے گی، بغیر گارنٹی قرض کی حد بھی 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ کر دی گئی ہے۔