غیر ملکی طلبہ کی واپسی پر 17 امریکی ریاستوں کا حکومت پر مقدمہ

162

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی 17 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے غیر ملکی طلبہ کی ملک سے واپسی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے متنازع فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ اس سے قبل ریاست کیلی فورنیا نے اسی طرح کا ایک الگ مقدمہ دائر کیا تھا جب کہ ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی درخواست پر آج سماعت ہو گی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کی 200 سے زیادہ یونیورسٹیوں نے ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے حق میں بیانات عدالت میں داخل کرائے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے ایک ہفتہ قبل اعلان کیا گیا تھا کہ موسم خزاں میں شروع ہونے والے تعلیمی سال کے لیے ایسے طلبہ کو ویزا جاری نہیں کیا جائے گا جن کی تمام کلاسیں آن لائن ہوں گی اور جو طلبہ ملک میں موجود ہیں، انہیں واپس جانا پڑے گا۔ 17 ریاستوں نے عدالت میں دائر مقدمے کی درخواست میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکم نامے سے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی ناکام ہو جائے گی جو وہ کئی مہینوں سے کر رہی تھیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے طلبہ کو وبا کے دوران وطن جانا پڑے گا جہاں ان کی تعلیم حاصل کرنے کی اہلیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ میساچوسٹس کی اٹارنی جنرل مورا ہیلی نے مقدمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایڈمنسٹریشن پروسیجر ایکٹ کے خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے یہ تک بتانے کی زحمت نہیں کی کہ اس ناسمجھی کے فیصلے کی بنیاد کیا ہے۔ اس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو اس انتخاب پر مجبور ہونا پڑے گا کہ وہ یا تو صحت عامہ کو لاحق خطرات کے باوجود کیمپس کھولیں یا اپنے غیر ملکی طلبہ کو وطن واپس جانے پر مجبور کریں۔ طالب علموں سے متعلق حکم نامے کو ریاستوں اور یونیورسٹیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کا سیاسی اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد موسم خزاں میں طلبہ کو حاضری پر مجبور کرنا ہے جب کہ بہت سے تعلیمی ادارے اعلان کر چکے تھے کہ صحت عامہ کو لاحق خطرات کی وجہ سے زیادہ کلاسیں آن لائن ہوں گی۔ وفاقی ہدایت نامے کے بعد غیر ملکی طلبہ نے پریشان ہو کر ایسے کورسز کی تلاش شروع کر دی تھی جس میں کیمپس کی حاضری ضروری ہو گی جبکہ حقیقت میں ایسے کورسز کم دستیاب ہیں۔