رام جنم بھومی نیپال میں ہے،وزیراعظم ،بھارتی سیخ پا

205

کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال اور بھارت کے درمیان جاری تناؤ کے دوران نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے نئے بیان سے نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے کٹھ منڈو میں اپنی سرکاری رہایش گاہ پر منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوؤں کے بھگوان رام نیپال کے گاؤں ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے اور اصل ایودھیا بھی نیپال ہی میں ہے۔ لہٰذا رام بھارتی نہیں بلکہ نیپالی تھے۔ دوسری جانب بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر انتہا پسند ہندو جماعتیں نیپالی وزیر اعظم کے بیان پر شدید بے چین ہیں جب کہ نیپال کی سیاسی جماعت راشٹریہ پراجا تنترا پارٹی کے شریک چیئرمین کمل تھاپا نے بھی وزیر اعظم کے پی شرما کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا غیر مصدقہ اور بے بنیاد بیان دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے وزیر اعظم دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے کے بجائے تعلقات کو مزید خراب کرنا چاہتے ہیں۔ اُدھر بھارت میں بابری مسجد کی مخالف اور رام مندر کی تحریک چلانے والی انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد اور بی جے پی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ نیپالی وزیر اعظم کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ وی ایچ پی کے ترجمان ونود بنسل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان نوین کمار نے کہا کہ نیپالی وزیر اعظم چین کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔واضح رہے کہ نیپال اور بھارت کے مابین پہلے ہی کشیدگی جاری ہے، اس دوران نیپالی پارلیمان میں ایک نیا نقشہ منظور ہوچکا ہے جس میں تین ایسے علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن پر بھارت اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ کے پی شرما کے مطابق بھارت ان کی حکومت گرانے کی سازش کررہا ہے جب کہ نیپال میں بھارتی نیوز چینلوں کی نشریات پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔