یمن میں بمباری ،7 بچے اور 2 عورتیں جاں بحق

170

صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کے شمال مغربی حصے میں ایک تازہ فضائی حملے کے نتیجے میں 7 بچے اور 2 عورتیں جاں بحق ہوگئیں۔ حوثی باغیوں نے سعودی عسکری اتحاد پر الزام لگایا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کیے گئے ان حملوں میں عسکری اتحاد نے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق زمین پر موجود ان کے رپورٹرز اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان حملوں میں عورتوںا ور بچوں سمیت کئی شہری شہید ہوئے۔ امدادی ادارے سیو دی چلڈرن نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ سعودی عسکری اتحاد کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں اور بمبار ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کی کوشش کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ پیر کے روز عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا تھا کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر ڈرون طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کی کوشش کی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔ اسی حوالے سے متحدہ عرب امارات نے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر حملوں کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا مکمل ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ایک صف میں کھڑے ہیں۔ امارات سعودی حکومت، عوام اور ملک کی سالمیت، استحکام وخود مختاری کی حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی سلامتی لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں ملک کسی بھی خطرے کے خلاف مل کر لڑنے کے لیے تیاری ہیں۔