دنیا میں بھوک بڑھنے سے یومیہ 12 ہزار ہلاکتوں کا خدشہ

162

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ دنیا میں بھوک و افلاس اور معاشی بدحالی کی موجودہ صورت حال جاری رہی اور اسے درست کرنے کے فوری اقدام نہ کیے گئے تو رواں برس کے آخر تک بھوک سے یومیہ 12 ہزار افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق آکسفیم کے امریکا میں عہدیدار ایرک مونوز اور دیگر ماہرین نے بتایا ہے کہ تنظیم کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ ورلڈ فوڈ پروگرام کے جائزوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جس کے مطابق اگر انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدمات نہ کیے گئے تو سال کے آخر تک مزید 12 کروڑ سے زیادہ لوگ شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں ایسے 10 مقامات کی نشاندہی کی ہے، جہاں غذائی قلت کا شدید خطرہ ہونے کے ساتھ فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ان میں یمن، شام اور سوڈان جیسے ممالک شامل ہیں۔ امریکن یونیورسٹی دبئی کے ڈین ڈاکٹر ظفر معین اور شکاگو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ظفر بخاری نے رپورٹ کے مندرجات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس نے جس طرح عالمی معیشتوں کو تباہ کیا ہے اور غربت و افلاس میں جس قدر اضافہ کیا ہے، وہ پوری دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہتر معیشت کے حامل ممالک اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو آگے آنا ہوگا، تاہم اگر معاملے کو نظر انداز کیا گیا یا لاپروائی برتی گئی تو پوری دنیا اس بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر یمن کو فوری مالی امداد فراہم نہیں کی گئی تو وہاں غذا کی قلت کے شکار بچوں کی تعداد2020ء کے آخر تک 24 لاکھ ہو جائے گی۔