چین میں 33 دریاؤں کی سطح بلند‘ خطرناک سیلاب کا خدشہ

149

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین میں شدید بارشوں کے باعث 33 دریا ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں، جس کی وجہ سے چین کو بدترین سیلابی صورت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ ہفتوں میں ہونے والی بارش اور سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 141 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ چین کے آبی وسائل کے نائب وزیر یے جن چن نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم جون کو بارش کا موسم شروع ہونے کے بعد 433 دریاؤں کے ساتھ ڈونگ ٹنگ، تائی اور پوینگ جیسی اہم جھیلیں بھی اپنی خطرناک سطح سے زیادہ بلند ہو چکی ہیں۔ حکام کے مطابق جولائی کے اختتام سے اگست تک سیلابی کیفیت کم ہونے کا امکان ہے البتہ ینگتزے اور تائی جھیل کی صورتحال میں زیادہ کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے وسطی علاقوں میں تباہی مچانے والا بارش کا حالیہ موسم ملک کے شمالی علاقے کا رُخ کرے گا۔ 1961ء میں ریکارڈ کیے گئے اعداد شمار کے بعد چین کو اِس وقت سب سے زیادہ بارش کا سامنا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق ہنگامی حالات سے متعلق وزارت نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں اب تک بارش اور سیلاب سے 141 افراد ہلاک یا لاپتا ہوچکے ہیں اور چین کو اربوں ارب ڈالر کے نقصان کا اندیشہ ہے جب کہ 3 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ امدادی محکمے کے مطابق ژیاننگ، جیو جیانگ اور نین چینگ جیسی آبادیوں میں پہلے ہی انتباہ جاری کردیا گیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج اور امدادی اداروں نے دریا کے کنارے پر ریت کے تھیلے لگائے ہیں تاکہ نقصان میں کمی کی جا سکے، ساتھ ہی کشتیوں میں متاثرہ افراد تک پہنچنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔