پانی کا منصوبہ: کے فور کی اراضی نجی بجلی گھروں کو الاٹ کردی گئی‘پروجیکٹ کھٹائی میں پڑگیا

211

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ کراچی کو 260 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کے منصوبے ” کے فور ” پر مختلف وجوہات یا بہانوں سے کام بند کرکے دو سال گزار چکی ہے اس کے باوجود آئندہ چھ ماہ میں بھی دوبارہ یہ پروجیکٹ شروع کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ 25 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت کے اس عظیم تر منصوبے پر کام کا آغاز 10 جون 2015 کو وزیراعلیٰ سندھ نے کیا تھا بعدازاں وزیراعظم میاں نواز شریف نے جون 2016ء میں اسی منصوبے کے کام کا افتتاح کیا تھا۔ یہ منصوبہ شیڈول وقت کے مطابق دسمبر 2018 مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔ تاہم جنوری 2018 میں ہی منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر سلیم صدیقی کو ہٹاکر ان کی جگہ ایک نان انجینئر پروجیکٹ ڈائریکٹر اسد ضامن کو پی ڈی مقرر کیا گیا۔ ان کے پی ڈی مقرر ہوتے ہی پورے پروجیکٹ پر کام پہلے سست روی کا شکار ہوا بعدازاں بند کردیا گیا اس پروجیکٹ میں تعینات تمام عملے کو واپس واٹر بورڈ کے مختلف شعبوں میں بھیج دیا گیا لیکن نان انجینئر پی ڈی ہنوز اسی عہدے پر تنخواہ و اضافی مراعات لے رہے ہیں۔ چونکہ مذکورہ افسر ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر اور سندھ گورنمنٹ کے ریٹائرڈ افسر کے بیٹے ہیں اس لیے انہیں محکمہ فنانس میں ایک ڈائریکٹر کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا۔ لیکن کے فور کے اہم ترین پروجیکٹ میں کوئی پیش رفت گزشتہ دو سال سے نہیں ہوسکی۔ اس پروجیکٹ کے پرانے ڈیزائن پر اعتراض کرکے پورے پروجیکٹ کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے اسی کنسلٹنٹ فرم نیسپاک کو بغیر ٹینڈرز کے ٹھیکا دے دیا گیا جس نے پہلی بار ڈیزائن کے لیے کنسلٹنسی کی تھی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو پیش کیے جانے کے نو ماہ بعد بھی پروجیکٹ پر کام کا آغاز نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ کے فور کے راستے میں سندھ گورنمنٹ نے نجی پاور کمپنیوں کو پن بجلی بنانے کے لیے اراضی الاٹ کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری امور اور پروجیکٹ پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کے فور کے پروجیکٹ میں کی جانے والی بے قاعدگی پرگزشتہ سال چیف سیکرٹری سندھ کو درخواست بھی دی تھی مگر اس پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں بلاجواز تاخیر کیے جانے کی وجہ منصوبے کی کل لاگت میں مبینہ طور پر اضافہ بھی کرنا ہے جو اب بھی ایک اندازے کے مطابق 25 ارب 50 کروڑ سے بڑھ کر 150ارب تک ہوچکی ہے۔ اس منصوبے سمیت تمام دیگر پروجیکٹ کے لیے وفاق پی سی ون میں رکھی گئی لاگت میں اضافے پر اضافی رقم دینے سے انکار کرچکاہے جبکہ سندھ گورنمنٹ مالی بحران کا شکار ہے اس لیے اس لیے ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس منصوبے کی تکمیل سے دلچسپی ہی نہیں رہی ہے۔ منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیے جانے کے بارے میں معلومات کے لیے جب پروجیکٹ ڈائریکٹر اسد ضامن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کال ریسیو کرنے سے گریز کیا ، جبکہ انہیں ایس ایم ایس کیا گیا تو اس کا بھی کوئی جواب دینے سے گریز کیا۔ اسد ضامن اور ان جیسے دیگر افسران کے اس رویے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری نے ان پر اخبار نویسوں سے بات کرنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ کے فور کے منصوبے پر کام بحال نہ کیے جانے پر کراچی کے شہریوں کا خیال ہے کہ تین مراحل پر مشتمل کل 650 ملین گیلن یومیہ کے پانی کے اس منصوبے کے 260 ایم جی ڈی یومیہ پانی کے پہلے فیز کو مکمل نہ کرنے پر سندھ گورنمنٹ کی عدم دلچسپی کی وجہ صرف یہی نظر آتی ہے کہ وہ کراچی کے لوگوں کی پانی کی ضروریات بھی پوری نہیں کرنا چاہتی۔