ایران نے چاہ بہارریل منصوبے سے بھارت کو نکال دیا

224

تہران/نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک+اے پی پی) ایران نے چاہ بہار ریل منصوبے سے بھارت کو نکال باہر کردیا۔بھارت اور ایران نے 2016ء میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریل لائن تعمیر کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔4 سال بعد ایرانی حکومت نے فنڈز اور منصوبہ شروع کرنے میں مسلسل تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو منصوبے سے خارج کردیا اور اب یہ منصوبہ خود تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ 400 بلین ڈالرز مالیت کے اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔بھارت کو امریکی پابندیوں سے خوف تھا جس کے باعث اس نے چاہ بہار میں معاہدے کے باوجود کام شروع نہیں کیا۔ ایران اب بھارت کی مالی مدد کے بغیر خود ہی اس پروجیکٹ پر کام شروع کرے گا اور چاہ بہار کو ہلکی رفتار سے ترقی دی جائے گی۔یہ سارا منصوبہ مارچ 2022ء تک مکمل ہوجائے گا اور اس منصوبے کے لیے ایرانی قومی ترقیاتی فنڈکی طرف سے40کروڑ ڈالر کی منظوری دی جائے گی۔ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ محمد اسلامی نے ریلوے ٹریک بچھانے کے منصوبے کا افتتاح کردیا ہے۔چین کے پاس ایران تک ریل روڈ پہلے ہی موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ مشہد کو بھی چاہ بہار سے ریل روڈ سے جوڑا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ چین اب کاشغر سے چاہ بہار تک ریل روڈ اور پھر آگے سمندر کے راستے استعمال کرسکتا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق چین کے ساتھ کئی ارب ڈالر کے معاہدے کو ایران کے تازہ فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب ایران چین کے ساتھ 25 سالہ اقتصادی اور سیکورٹی شراکت داری کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے اور یہ معاہدہ 400 ار ب ڈالرکا ہے۔ ایران اور چین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے نتیجے میں بینکاری ، ٹیلی مواصلات ، بندرگاہوں ، ریلوے اور ایران کے متعدد دوسرے منصوبوں میں وسیع بنیادوں پر چینی شراکت داری ہوسکتی ہے۔اس کے بدلے میں چین کو آئندہ 25 سالوں تک باقاعدگی سے بھاری رعایت پر ایرانی تیل فراہم ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق 18 صفحوں پر مشتمل دستاویز میں مجوزہ معاہدے کی فہرست میں گہرے فوجی تعاون کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ ایران نئی دہلی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی رہا ہے، اس معاہدے سے خطے میں بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب لداخ میں حالیہ تعطل کے بعد چین کے ساتھ اس کے تعلقات مزیدخراب ہو گئے ہیں۔بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسے اخراج کو بھارت کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی سفارتی شکست قرار دیا ہے۔