دنیا بھر میں ایک کروڑ بچوں کے اسکول سے محروم ہونے خدشہ

183

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) بین الاقوامی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن نے اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال یونیسکو کی رپورٹ کی روشنی میں خبردار کیا ہے کہ عالمی وبا کے باعث لگ بھگ 97 لاکھ بچے دوبارہ اسکول نہیں جاسکیں گے۔ سیو دی چلڈرن نے پیر کے روز ’’ہماری تعلیم بچاؤ‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 12 ممالک نائیجر، مالی، چاڈ، لائبیریا، گھانا، موریطانیہ، یمن، نائیجیریا، سینی گال اور آئیوری کوسٹ کے علاوہ پاکستان اور افغانستان ان ممالک میں شامل ہیں، جہاں سب سے زیادہ بچوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے سبب دنیا بھر میں 90 فیصد یعنی ایک ارب 60 کروڑ طلبہ کا اسکولوں اور جامعات میں تعلیمی سلسلہ معطل ہو گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ عالمی سطح پر ایک پوری نسل کی تعلیم وائرس کے سبب متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کورونا وبا کے سبب کم یا درمیانی آمدن والے ممالک میں تعلیم کے بجٹ میں 2021ء کے آخر تک 77 ارب ڈالر کی کٹوتی ہو سکتی ہے۔ سیو دی چلڈرن کے چیف ایگزیکٹو اینگر ایشنگ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ایک کروڑ بچے دوبارہ اسکول نہیں جا سکیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تعلیم سے متعلق ایک ہنگامی صورتحال ہے اور حکومتوں کو فوری طور پر تعلیم کا بجٹ بڑھانا چاہیے۔