سوڈان میں بعض اسلامی اور سماجی قانون ختم

233

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں قائم نیم فوجی حکومت نے کئی اسلامی اور سماجی قانون ختم کردیے ہیں۔ خبررساںا دارون کے مطابق سوڈانی حکومت نے غیر مسلموں کو شراب پینے کی اجازت دینے کے ساتھ مرتد کی سزائے موت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوڈان کی نئی حکومت نے تقریباً 40 برسوں سے نافذ اسلامی قوانین میں بعض نرمیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو ہنگامہ اور فساد برپا نہ کرنے کی شرط پر شراب پینے کی اجازت دی جائے گی۔ سوڈان میں شرعی قوانین کے مطابق مرتد کی سزا موت ہے، تاہم ملک کے وزیر انصاف نصیر الدین عبد الباری نے ایسے قوانین میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے گا۔ سوڈان میں صدر عمر البشیرکی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے، جس کے بعد تقریباً 30 برس بعد ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے ایک برس بعد ان اصلاحات کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر انصاف نصیرالدین عبد الباری نے سرکاری ٹی وی پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اب سوڈان غیر مسلوں کو اس شرط پر شراب پینے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس سے امن امان کو خراب نہیں کریں گے اور سر عام شراب پینے سے گریز کریں گے۔ سوڈان کے سابق صدر جعفر نمیری نے 1983ء میں ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے شراب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے شراب پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت خرطوم میں وہسکی کی بوتلیں دریائے نیل میں غرق کردی تھیں۔ حکومت نے ان اصلاحات کے تحت اس قانون میں بھی تبدیلی کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت خواتین کو اپنے بچوں کے ساتھ باہر سفر پر جانے کے لیے اپنے مردوں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اب ایسے سفر کے لیے خواتین کو اپنے شوہروں سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وزیر انصاف عبد الباری نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئیکہا کہ کسی بھی شخص کو کسی فرد یا پھر گروہ پر کفر کا فتویٰ صادر کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس سے معاشرے کا تحفظ اور سیکورٹی کے خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے اوراس سے انتقامی قتل و غارت گری کو فرغ ملتا ہے۔