جلد اور بہت جلد

399

ان دنوں تحریک انصاف کی حکومت اس پتھر کی مانند ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے تیز رفتاری کے ساتھ لڑھکتا ہوا کسی اندھی کھائی کی طرف رواں ہے۔ وزیراعظم عمران خان ریاستی امور پر اپنی گرفت قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ تاثر یہ ہے کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ ریاستی امور کیا ہیں اور انہیں کیسے قابو میں رکھا جاتا ہے۔ سلیکٹرز بھی دسترس سے باہر ہوتے معاملات کو دیکھ دیکھ کر پریشان ہیں۔ پولیس، عدلیہ، بیورو کریسی اور پارلیمنٹ سب گلنے سڑنے کے اس مرحلے میں ہیں جس کے بعد فنا اگلی منزل ہوتی ہے۔ ملکی، علاقائی اور عالمی طاقتیں جنہیں کل تک اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان جوتے کی نوک پر رکھنے کا تاثر دیتے تھے ان کے سامنے مکمل پسپائی اور ان کے بوٹ پالش کرنے کے باوجود عمران خان کچھ حاصل نہ کرسکے۔ بچے کھچے وسائل کی لوٹ مار کے باوجود ان کے قریبی رفقا ان سے دور، وزرا ایک دوسرے سے متنفر اور پارٹی داخلی کشمکش کا شکار ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ کیس نے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک صفحے پر ہونے کے تاثر کی بھی نفی کردی ہے۔ اس کیس کے بعد عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات تسلی بخش نہیں ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ یہ کیس جیت چکے ہیں لیکن ان کے فیصلوں کی پاداش میں ان کی بیوی اور بچوں کو ایف بی آر کے آگے ڈال دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ریاست کے ان دو ستونوں کے درمیان تضادات میں شدت کا پہلو غالب نظر آرہا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے جس طرح نیب کو نشانے پر لیا ہے یہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک طاقتور ہتھیار کو کند کرنے کی ایک کوشش ہے۔ نیب ایک فوجی حکومت کی تخلیق ہے جسے پردے کے پیچھے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ نیب کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس طرح بروئے کار لایا جاتا ہے کہ جب سیاست دان اپوزیش میں ہوتے ہیں تو نیب کی جانب سے اپنے خلاف کی جانے والی انتقامی کاروائیوں کی وجہ سے اس کی جان کے سب سے بڑے دشمن نظر آتے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد نیب ان کی منظور نظر ہوجاتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مخالفین سے حساب برابر کرتے نظر آتے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب نے نیب کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا ادارہ نہیں چل رہا۔ ملک بھر میں صرف 25نیب عدالتیں ہیں اور ان میں بھی پانچ میں کوئی جج مقرر نہیں۔ نیب کے پاس 1226ریفرنسز زیر التوا ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ کچھ کیسز تو 2001 سے نیب کے قیام کے وقت سے زیر التوا ہیں حالانکہ ہر کیس کو تیس دن میں نمٹانا ضروری تھا۔ چیف جسٹس صاحب نے حکومت کو تیس دن کے اندر مزید 120نیب عدالتیں قائم کرنے اور ان میں جج تعینات کرنے کا حکم دیا کیونکہ موجودہ حجم اور رفتار کے ساتھ تو نیب کو مقدمات نمٹانے میں سو برس لگ سکتے ہیں۔
کاروبار مملکت جس سکوت اور سناٹے کا شکار ہے نیب اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نواز شریف حکومت میں کام کرنے والے سینئر افسران احد چیمہ اور فواد حسین کے ساتھ نیب کی بدسلو کی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ افسران فیصلے کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ دونوں بیورو کریٹس کو آشیانہ ہائوسنگ اسکیم کیس میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد میں ان پر ذرائع سے زائد اثا ثوں کے کیس بھی ڈال دیے گئے۔ نیب سینئر سرکاری افسران پر غلط فیصلوں کے ذریعے کرپشن میں معاونت اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات کا سہارا لے کر ہر سرکاری افسر کے لیے خوف کی علامت بن گئی ہے جو انہیں اہم فیصلے کرنے سے روک رہی ہے۔ کاروباری افراد اور سرکاری افسران تو نیب سے پلی بارگین کرکے چھوٹ جاتے ہیں لیکن سیاست دانوں کے لیے نہ تو اپنی کرپشن کا اعتراف کرنا ممکن ہے اور نہ پلی بارگین۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کیسز عرصہ دراز تک معلق رہتے ہیں۔ یہی اسٹیبلشمنٹ نیب سے چاہتی ہے تاکہ ناپسندیدہ سیاست دانوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔
وزیراعظم عمران خان پاکستان کے سب سے غیر مقبول وزیراعظم بننے کی سمت گامزن ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد تحریک انصاف عملاً کوئی سیاسی جماعت ثابت نہیں ہوئی۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کا اکٹھا کردہ سیاسی ریوڑ ہے جسے غیر مشروط حمایت اور عدم مداخلت کی شرط پر اقتدار میں لایا گیا ہے۔ عمران خان سیاست دان سے زیادہ محض ایک شو بوائے ہیں۔ طاقت کے حصول پر یقین رکھنے اور منتقم مزاجی سے معاملات چلانے والے شخص۔ گلے کا ہار بن جانے والے نعروں اور درمیانی طبقے کی حمایت اور اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بن کر جو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن کچھ کرکے دکھانے کی صلاحیتوں سے یکسر عاری۔ چینی اسکینڈل تحریک انصاف کے لیے آخری کیل ثابت ہوا جس کے بعد عمران خان عوام میں اپنی وقعت کھو بیٹھے ہیں۔ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار نے عمران خان کے دعووں کو اس طرح ننگا کیا ہے کہ عمران خان اب ایک ایسے سیاست دان بن کررہ گئے ہیں جس کی کسی بات کا کوئی یقین نہیں۔ کنٹینر تقاریر میں مافیا عمران خان کا محبوب لفظ تھا جسے وہ تمام برائیوں کی جڑ کہا کرتے تھے اقتدار میں آکر جسے کچلنے کے دعوے کرتے تھے۔ انہیں پتا ہی نہیں لگا مافیاز نے کب تحریک انصاف میں جڑیں پکڑ لی ہیں۔ یہ حکومت ابھی تک اگر موجود ہے تو اس کا کریڈٹ اپوزیشن کی نااہلی کو جاتا ہے۔ پی آئی اے کو جس طرح برباد اور رسوا کیا گیا ہے کوئی اژدھا بھی اس سرعت سے اپنے شکار کو نہیں نگلتا۔ کھائی میں پڑی ہوئی معیشت، مسلسل بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور گنجلک مسائل کا حل اب سلیکٹرز کے پاس بھی نہیں جن کی مقبولیت پاکستان کی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ دار، جاگیردار اور پاکستان کے ناخدا جس طرح اپنی فیملیز کو باہر شفٹ کررہے ہیں وہ پا کستان کے مستقبل کے حوالے سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا میں کہیں بھی اچھی حکومتیں دینے میں نا کام رہاہے۔ پاکستان میں سرمایہ درانہ نظام کے تحت اداروں کے درمیان جس تصادم کا ذکر کیا گیا ہے پاکستان اس میں تنہا نہیں ہے امریکا میں بھی وائٹ ہائوس، کا نگریس، میڈیا اور پنٹا گون کے درمیان شدید کھچائو موجود ہے۔ مغرب کی ترقی کی وجہ بھی سرمایہ دارانہ نظام نہیں ان کا استعماری کردار ہے۔ اس نظام میں اب کتنی بھی اصلاحات کرلی جائیں یہ نظام خود کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ امریکا میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جس طرح تحریک بپا ہوئی ہے اس کے بعد کسی کو بھی اس نظام پر یقین باقی نہیں رہا ہے۔ اس نظام کا نام آتے ہی اب دہشت گردی، منی لانڈرنگ، ہیروئن، سرمایے کا بے حدوحساب ارتکاز، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، FATF اور نہ جانے کون کون سی جکڑ بندیاں یاد آتی ہیں جنہوں نے حکمرانوں کے لیے حکمرانی کرنا مشکل بنا دیا ہے جس سے ایک طرف ریاستیں کراہ رہی ہیں دوسری طرف عوام ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہیں۔ حکمران اشرافیہ ہے جس کے لیے اس نظام میں سب کچھ رکھا گیا ہے۔ وہی اس سے مستفید ہورہی ہے۔ وہی چہرے بدل بدل کر حکمرانی کررہی ہے۔
پاکستان کے مسئلے کا حل مائنس ون ہے نہ ٹو اور تھری، نئے انتخابات ہیں اور نہ چہروں کی تبدیلی اور نہ مارشل لا۔ اس لیے کہ جو بھی تبدیلی آنی ہے اس کو بہرحال سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ وہ نظام جو امریکی عوام کو کچھ نہ دے سکا، پوری دنیا میں ناکام ہورہا ہے، پاکستان کے لیے اس میں خیر کا کون سا پہلو پوشیدہ ہوگا۔ سرمایہ دارانہ نظام میں معیشت اور کرنسی کی طرح سب ہی کچھ مصنوعی طور پر تخلیق کیا جاتا ہے۔ حقیقت اور انسانیت کے دکھوں کا مداوا صرف اسلام کے پاس ہے۔ اسلام کے پاس ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا تشکیل دیا ہوا وہ نظام ہے جس میں انسانوں کے لیے مستقل کامیابی اور فلاح موجود ہے۔ کوئی رستہ دے نہ دے دنیا کا اگلا نظام اسلام ہی ہے۔ جلد اور بہت جلد۔