غلط ویکسین کون لایا

232

وزیراعلیٰ سندھ نے الزام عاید کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں گزشتہ برس بچوں کو پولیو کی غلط ویکسین پلا دی گئی جس سے پولیو کا وائرس پھیلا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات اسکینڈل میں کون کون ملوث ہے اس کی تحقیقات کرائی جائے لیکن انہوں نے اس کی تحقیقات کی ذمے داری میڈیا پر لگائی ہے۔ میڈیا جو تحقیق کرے گا اسے مانے گا کون لیکن اس میں اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ غلط ویکسین پلائے جانے کا الزام لگا رہا ہے۔ اب تک اگر کبھی کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر ایسی خبر آتی تھی، کوئی مظلوم ایسا الزام لگاتا تھا تو یہی کہا جاتا تھا کہ الزام غلط ہے۔ سو اس بار بھی گلگت بلتستان سے تردید آگئی۔ لیکن کیا یہ کوئی معمولی بات ہے۔ صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے انہوں نے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر یہ الزام عاید کیا ہو لیکن اس میں کچھ نہ کچھ سچائی تو ہوگی۔ وزیراعلیٰ کا یہ بیان بھی اہم ہے کہ ادویات اسکینڈل کے بارے میں تحقیقات کرائی جائے مزید یہ کہ غلط ویکسین لایا کون۔ وزیراعلیٰ سندھ نے غلط ویکسین پلانے کی بات کی ہے اس کی تحقیق ضروری ہے لیکن ویکسین پلانے پر کوئی آواز کیوں نہیں اٹھی جبکہ مغربی ممالک خصوصاً امریکا میں قطرے پلانے پر پابندی لگائی جا چکی ہے تو کیا وہی قطرے یہاں بھیجے جا رہے ہیں؟ اور قطرے پلائے ہی کیوں جاتے ہیں۔ پاکستان کے طبی شعبے میں اس پر تحقیق کرکے رہنمائی کیوں نہیں دی جاتی۔ پولیو کے علاج کے حوالے مختلف قسم کی غلط فہمیاں پھیلائی جاتی رہی ہیں۔ ان کی تردید تو بڑے بڑے اشتہارات کے ساتھ کر دی جاتی ہے لیکن کیا وزیراعلیٰ سندھ ان باتوں سے ناواقف ہیں کہ یہ ویکسین اقوام متحدہ کی ہدایت اور رہنمائی میں آتی ہے۔ اس کے لیے بھی بہت بڑے پیمانے پر فنڈز باہر سے آتے ہیں اور جب بھی کسی کار خیر کے لیے فنڈز باہر سے آتے ہوں اس کار میں خیر کی توقع رکھنا عبث ہے۔ فنڈز دینے والے اپنے ایجنڈے کے لیے فنڈز دیتے ہیں دکھی انسانیت کے لیے نہیں۔ اگر ایک صوبے کے بارے میں دوسرے صوبے کا وزیراعلیٰ یہ بات کہہ رہا ہے کہ غلط ویکسین کی وجہ سے وائرس پھیلا تو اس کی وفاقی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے۔اب ایک خبر یہ سامنے آئی ہے کہ جانوروں کو لگائے جانے والے انجکشن انسانوں کو لگائے جا رہے ہیں۔ کیا اہل اقتدار کے نزدیک انسان اور جانور برابر ہو گئے۔ انسانوں سے سلوک تو ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ پولیو کے قطرے اور ویکسین کئی عشروں سے استعمال ہو رہی ہے اس کے باوجود پولیو کے مریض بڑھتے جا رہے ہیں۔ کہیں سب کچھ جعلی تو نہیں؟