حکومت نے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگیاں بلاجواز روکی ہوئی ہیں ، سلامت علی

111

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز اپنا ورکنگ کیپیٹل سیلز ٹیکس کی مد میں حکومت کے پاس پھنس جانے اور ریفنڈز میں بلاجواز حکومتی تاخیر پر سخت نالاں اور پریشان ہیں۔حکومت کی کاروبار دشمن غلط ٹیکس پالیسیوں اورحکومتی معاشی ٹیم اور بیوروکریسی کے روایتی ہتھکنڈوں کے باعث ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کا مالی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ شدید مالی دبائو اور ورکنگ کیپیٹل بروقت دستیاب نہ ہونے کے باعث ایکسپورٹ انڈسٹریز کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت کے ایکسپورٹ سیکٹر پر سیلز ٹیکس کے نفاذ اور یفنڈز کی ادائیگیوں میں بلاوجہ تاخیر کی وجہ سے خاص طور پر اسمال و میڈیم ایکسپورٹرز کہیں کے نہیں رہے اور انھیں اپنے کاروبار کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔سینکڑوں اسمال و میڈیم صنعتوں نے اپنا ورکنگ سرمایہ جو حکومت کے پاس صنعتی خام مال اور یوٹیلیٹز پر سیلز ٹیکس کی کٹوتی اور کلیمز کی حکومت کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث پھنس جانے پراپنی پروڈکشن بند کر دی ہے ۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈز ادا نہ کئے تو ہزاروں کی تعداد میں اسمال و میڈیم صنعتوں کے بند ہونے کا اندیشہ ہے۔