کشمیر کی آزادی سے پہلو تہی کرنا نظریہ پاکستان سے بے وفائی ہے، سینیٹر سراج الحق

244

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کشمیر کی آزادی سے پہلو تہی کرنا نظریہ پاکستان سےبے وفائی ہے، کشمیر پالیسی اب بھی وہی ہے جو مشرف دور میں تھی، حکومت زبانی کلامی حمایت کے دعوؤں سے آگے بڑھ کر کشمیر کی آزادی کیلئےعملی اقدامات کرے ۔

 ان خیالات کااظہار انہوں نے دیر میں کارکنوں کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ 13 جولائی 1931 ءکے شہدا کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیری جلد بھارت کے پنجہ استبداد سے آزادی حاصل کریں گے ۔

بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں،برہان وانی کی شہادت نے نوجوانوں میں آزادی کے لیے جانیں نچھاور کرنے کے جذبہ کومہمیز دی ہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ٹیپو سلطان کے رستے کا انتخاب کرنے کے نعرے لگانے اور کشمیر کا سفیر بننے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم نے چار دن بازو پر کالی پٹیاں باندھنے اور اقوام متحدہ میں ایک تقریر کرنے کے بعد چپ سادھ رکھی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لگتاہے کہ وزیراعظم کی سفارت کاری بھی دم توڑ چکی ہے،کشمیر ابھی نہیں تو کبھی نہیں والی پوزیشن پر پہنچ چکا ہے ۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل اور ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا، سالمیت اور تحفظ کے لیے کشمیر کی آزادی ضروری ہے، قوم شہدائے کشمیر اور شہدائے 13 جولائی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، کشمیرکی آزادی کے لیے شہدا کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی، کشمیر میں گیارہ ماہ سے ڈبل لاک ڈاؤن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید اور خواتین کو گھروں سے اٹھایا جارہاہے،لوگوں کے لیے اپنے بیماروں اور بچوں کا علاج کرانا بھی مشکل ہو گیاہے،لیکن ان تمام تر مظالم اور جبر کے باوجود بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کشمیری عوام کے عزم و حوصلے کو شکست دے سکی نہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دباسکی ہے،کشمیری عوام کا جذبہ حریت ناقابل تسخیر ہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 13 جولائی 1931 ءکو ایک اذان مکمل کرنے کے لیے 22 کشمیری نوجوانوں نے اپنے سینے پر گولیاں کھائیں اور شہادت کا رتبہ حاصل کیا،کشمیر میں آج بھی اذانیں گونجتی اور اللہ کی کبریائی کے نعرے بلند ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم کشمیر کی آزادی اور اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو بھارت کے ظلم و استبداد سے نجات دلانے کے لیے آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک لڑنے کا عزم رکھتی ہے ۔