عیدالاضحیٰ 31 جولائی  کو ہوگی، فواد چوہدری

245

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودہری کا کہنا ہےکہ عیدالاضحیٰ 31 جولائی 2020 بروزجمعہ کوہوگی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ چاند کا معاملہ اس سال پکا طے ہوجائے گا،اگلی عید سے پہلے مون آبزر ویٹری بن جائے گی،رویت ہلال کمیٹی آرام سے آبزر ویٹری میں جاکر چاند دیکھے گی۔

انہوں نے کہاکہ ہر شخص آبزر ویٹری میں خود جاکر چاند دیکھ سکے گا،مون آبزرویٹری ایک گوادر میں اور ایک اسلام آباد میں لگے گی،ہم نے کراچی میں بھی آبزرویٹری لگانے کے لیے درخواست کی ہے،بہت سے ممالک میں رویت ہلال کمیٹی کے بجائے صرف کلینڈر ہے،بہت کم ممالک میں رویت ہلال کمیٹی ہے۔

وفاقی وزیر نے مولانا فضل الرحمن  پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ مولانا بہت طویل عرصے کے بعد ایوان سے باہرہیں،اس لیے مولانا فضل الرحمن کو نیند بھی نہیں آتی ہوگی،وہ سوچتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو ہو ، جس سے وہ ایوان میں واپس آسکیں،ان کی آل پارٹیز کانفرنس  کا کوئی ایجنڈا نہیں،اے پی سی کی بھی دال نہیں گلے گی۔

انہوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عزیر بلوچ اور نثار مورائی پی پی قیادت کے قریب ترین تھے،علی زیدی بہت عرصے سے اس معاملے کے پیچھے تھے،یہ تمام لوگ خطرناک ، ان کے خلاف بات کرنا آسان نہیں،علی زیدی نے بہت بہادری کا ثبوت دیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ چندحکومتی وزراءکی کارکردگی میں بہتری کی گنجائش ہے،وزیر اعظم کو اپوزیشن کی طرف سے کوئی چیلنج درپیش نہیں،حکومت کی چند معاملات میں کارکردگی بہت بہتر ہے،

ہم نے پاکستان میں وینٹی لیٹر سمیت طبی سامان بنانا شروع کردیا ہے،ہماری اگلی توجہ ایگری کلچر ہوگی،ہم زراعت کا نقشہ بدلنا چاہتے ہیں۔

انہو ں نے کہاکہ وزیر اعظم نے 15روز میں اثاثہ جات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، کافی اراکین نے اپنے اثاثہ جات جمع کرادیے ہیں،مشیر صرف مشورہ دے سکتاہے، فیصلہ کرنا وزیر کا کام ہے،مشیر فیصلہ نہیں کرسکتے یہی بنیادی اصول ہے۔

انہوں نےمزید کہاکہ وزیر اعظم نے واضح طور  پرپانچ سے چھ مہینے کی بات کی تھی،عمران خانے کہا تھا کہ جو منصوبے لانے ہیں پانچ سے چھ ماہ میں لے آئیں،اس کے بعد آنے والے منصوبوں کو وقت پر پورا نہیں کیا جاسکے گا،حکومت جس انداز میں چل رہی ہے اس میں بہتری کی گنجائش ہے،عمران خان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔