کورونا کی صورتحال کے دوران پاکستانی قونصلیٹ کی خدمات

69

قونصل جنرل پاکستان خالد مجید نے جدہ میں پاکستان قونصلیٹ میں پاکستان اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی وبا جدہ میں پاکستان قونصلیٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے، تاہم اس خطرناک صورتحال کے دوران ہم نے اپنی بھرپور صلاحیتوں سے نمٹنے کی کوشش کی اور اللہ کے فضل سے مشکل حالات میں کامیابی حاصل ہوئی۔ ان کے ساتھ ڈپٹی قونصل جنرل شائق احمد بھٹو، منسٹر کوآرڈینیٹر ابونصر شجاع اور پریس قونصلر ارشد منیر بھی موجود تھے۔ پاکستانی قونصل جنرل کا مزید کہنا تھا کہ پہلا چیلنج بین الاقوامی پروازوں کی بندش کے بعد عمرہ زائرین کی واپسی کا تھا۔ فضائی آپریشن بند ہونے کے بعد تقریباً 500 عمرہ زائرین سعودی عرب میں پھنس گئے تھے، جنہیں سعودی حکومت کی معاونت اور وزارت حج و عمرہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت سعودی ائرلائن کی 2 پروازوں کے ذریعے وطن واپس بھیجا گیا۔
اس کے بعد دوسرا بڑا چیلنج سعودی عرب میں پھنسے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کے افراد تھے، جنہیں وطن واپس روانہ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ہماری ترجیحات میں وزٹ ویزا، خروج نہائی اور طبی ہنگامی صورت حال تھی، جسے پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے افراد کی شناخت کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک فارم جاری کیا گیا، جس کے ذریعے سعودی عرب کے تمام شہروں سے تقریباً 34 ہزار پاکستانیوں نے اپنا اندراج کرایا۔ ابتدائی طور پر مقامی تجارتی علاقوں کی بندش کے باعث پی آئی اے کی ٹکٹیں قونصل خانے کے احاطے سے فروخت ہو رہی تھیں، تاہم بعد ازاں پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد 15 جون سے مجاز ایجنٹوں اور پی آئی اے کے دفتر سے ٹکٹ کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا۔ یکم مئی سے شروع کی گئی خصوصی پروازوں کے ذریعے 64 پروازوں پر تقریباً 14 ہزار مسافروں کو پاکستان بھیجا گیا۔ یہ پروازیں جدہ اور بعد میں مدینہ منورہ سے پرواز کرتی تھیں، تاہم کرفیو اور پابندیوں میں نرمی کے بعد سے معمولات بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اب پاکستانیوں کی وطن واپسی کا دباؤ بھی کم ہوگیا ہے۔
قونصل جنرل کے مطابق کورونا کی پابندیوں کے دوران بہت سے پاکستانیوں کو دفاتر کی بندش، ملازمت سے سبکدوشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فقدان کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے آزمائشی وقت میں ہم نے زیادہ سے زیادہ ضرورت مند اور بے سہارا پاکستانیوں میں کھانے کی اشیا اور راشن بیگ تقسیم کرنے کی کوشش کی، جس پر ہم اپنے مخیر کمیونٹی ارکان اور تنظیموں کے شکرگزار بھی ہیں جنہوں نے ہماری دعوت پر قدم بڑھایا اور پاکستانی برادری کی ہرممکن مدد کے لیے پیش پیش رہے۔
خالد مجید کا مزید کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی اور کرفیو اٹھائے جانے کے بعد قونصلیٹ نے حکومت کی جانب سے جاری کی گئی احتیاطی تدابیر کو پیش نظر رکھتے ہوئے معمول کی قونصلر خدمات شروع کردی ہیں۔ رواں ماہ سے مغربی خطے کے مختلف شہروں کے قونصلر دورے بھی شروع کردیے گئے ہیں، جس سے دوسرے شہروں میں رہنے والے پاکستانیوں کو سہولت ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کرفیو کے دوران بھی قونصلیٹ عوامی خدمت کی خاطر بند نہیں کیا گیا، ہم نے ڈیوٹی افسران کے رابطہ نمبرز جاری کردیے تھے جو دن رات دستیاب تھے۔
قونصل جنرل پاکستان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے کورونا سے متاثرہ تمام مریضوں کو مفت طبی امداد دینے کے اعلان کرنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں تارکین وطن کو، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں، سعودی حکومت کے انسانی ہمدردی کے اقدام سے فائدہ حاصل ہوا ہے۔ پریس بریفنگ میں مملکت میں پاکستانی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ آخر میں پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے بھی دعا کی گئی، جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر ذمے داری نبھائی اور کورونا وائرس کے باعث اپنی زندگی ہار گئے۔