کورونا وائرس اور حکمرانوں کے دعویٰ ؟

71

اس حقیقت سے انکار کرنا ممکن نہیں کہ کورونا نے پوری دنیا میں تباہی مچارکھی ہے اور ابھی تک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کا علاج دریافت نہیں کرسکے گویا کہ کورونا ابھی تک لاعلاج مرض ہے اور اس خطرناک وبانے ہنستے بستے گھر اُجاڑ دیے اور کچھ لوگوں کو ارب پتی بھی بنا دیا۔ بعض حکومتوں سے وابستہ بااختیار افراد نے راشن کی تقسیم اور احساس پروگرام کے نام پر بہتی گنگا میں نہ صرف خوب ہاتھ دھوئے بلکہ آشنان بھی کیا۔ سیاسی جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے لیے ایک دوسرے پر کرپشن اور نااہلی کے سنگین الزامات لگائے مگر ان الزامات کا تعلق عوام کے تحفظ اور بہبود سے نظر نہیں آتا۔ اگر حکومت سندھ کے ترجمان نے وفاقی حکومت پر احساس پروگرام میں نقد پیسے تقسیم کرنے پر بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات لگائے تو خود سندھ میں راشن کی تقسیم میں اس سے بڑھ کر گھٹیا طریقوں سے کرپشن کے ریکارڈ قائم کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلعی سطح پر افسران کو راشن کی تقسیم کے سلسلے میں صوابدیدی اختیار نے کئی سوالات کھڑے کیے ہیں؟ عوام کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ کورونا کی وجہ سے کاروباری ادارے خاص طورسے ہوٹل انڈسٹری، سیاحت انڈسٹری، ٹرانسپورٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئے لیکن نچلی سطح پر پولیس کو زندگی بھر اتنا فائدہ نہیں ملا تھا جتنا کہ کورونا کے لاک ڈاؤن اور مختلف پابندیوں کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو فائدہ ہوا عام آدمی ہر جگہ ٹھیلوں پر فروٹ سبزی اور دیگر سامان فروخت کرنے والوں سے شاہراہوں پر پیسے وصول کرتے دیکھتے رہے مگر ضلعی حکام اور پولیس کے بالا افسران کو شاید یہ نظر نہیں آتا ہوگا۔ اس عمل سے تو ایسا لگ رہاہے کہ کورونا کے حوالے سے ضوابط کے اطلاق کے نام پر پولیس کئی گنا طاقتور ہوگئی جس کا وہ بھر پور فائدہ اٹھارہی ہے۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر حکومت کورونا کی روک تھام کیلئے بنائے گئے ضوابط کا اطلاق پولیس کے ذریعہ نہیں کرتی تو ٹائیگر فورس کے متعلق خبریں تو اس سے بھی بھیانک ہیں۔ کل رات میڈیا پر وزیر اعظم کی جانب سے پنجاب میں آٹے کو پرانے قیمت پر واپس لانے کی ہدایت کے بعد فوری طورپر حکومت پنجاب نے ٹائیگر فورس کے خفیہ اطلاعات پر اربوں روپے کے ذخائر قبضے میں لینے کی خبر شائع ہوئی ۔ مگر 20 کلو آٹے کی قیمت میں ایک روپیہ کی کمی نہیں آئی۔ عام شہریوں کا خیال ہے کہ جب سے کورونا وائرس کے نام پر صنعتی اور کمرشل ادارے متاثر ہوئے یا بند ہوئے تھے۔ اس وقت سے ملک میں کروڑوں مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ دھوم دھام سے بغیر کسی ڈر وخوف کے جاری ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ مزدور سندھ میں بے روزگار اور ہر قسم کے مالی فوائد سے محروم ہوئے ہیں سہ فریقی ویلفیئر اداروں سندھ ایمپلائیز سوشل سیکورٹی سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن سے کارکنوں کو ملنے والے مالی فوائد عملاً ختم ہوچکے ہیں۔ ان اداروں میں مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن کے لیبر ویلفیئر بورڈ کو پندرہ سال سے معطل رکھا گیا اور سوشل سیکورٹی کے گورننگ باڈی پر دس سال سے حکمران جماعت سے وابستہ افراد کو مسلط کرکے مزدوروں کو علاج اور رجسٹریشن کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ غیر معیاری ادویات کی خریداری کی وجہ سے یہ ادارہ بدعنوانیوں کا گڑھ بن گیا ہے اور صنعتی اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کی 25فیصد تعداد کی رجسٹریشن سے 75فیصد مزدور بمعہ فیملی علاج کے حق سے محروم کردیے گئے ہیں ۔ اسی طرح سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ سے ملازمت کے دوران انتقال کرنے والے کارکنوں کے لواحقین کو ڈیتھ گرانٹ نہ ملنا کارکنوں کے لڑکیوں کی شادی امداد، جہیز گرانٹ، اسکالر شپ کی پندش اور سیونگ مشینوں کی اسکیم تو بالکل بند کی گئی۔ کارکنوں کو ڈرہے کہ ان کی فلاح وبہبود کے لیے صنعت کاروں سے جمع کردہ فنڈ ز کورونا کے نام پر ٹھکانے نہ لگایا جائے دیکھا جائے تو کورونا وائرس کے نام پر پورے ملک میں محنت کشوں کو معاشی طورپر تباہ کیا گیا۔ ہر جگہ حکمرانوں کی سرپرستی میں لوٹ مار جاری ہے، عوام کی داد رسی کا کوئی ذریعہ نہیں، اعلیٰ عدلیہ بھی حکومتی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر برہمی تک ردعمل کااظہار کرتی ہے۔ کورونا سے مرنے والے 90 فیصد غریب، نادار، بیمار، عمر رسیدہ مزدور ہیں اور جو زندہ بچ جاتے ہیں انہیں مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے بھوکا مارا جارہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ حکومتوں نے میڈیا کے ذریعے عوام کو ذہنی طورپر مفلوج کردیا ہے، ہر گھر میں ٹی وی کھولنے کے ساتھ کورونا کو جس طرح پیش کیا جاتا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ اس وبا سے کوئی بچنے والا نہیں میڈیا پر کورونا سے بچنے کا کوئی مثبت ہمت افزا پروگرام دیکھنے میں نہیں آتا۔ مایوسی اور خوف ایسے پھیلایا جارہاہے کہ اگرکسی کو پیٹ میں در د اُٹھے، کھانسی آجائے، گلے میں خارش ہو یا بدن میں در ہو تو وہ ذہنی طورپر محسوس کرنے لگتا ہے کہ مجھے کورونا ہوگیا۔ شاید پھر ٹیسٹ کے لیے 8 ہزار روپے درکار ہیں۔ حکومتی دعویداروں کے پاس عملاً ٹیسٹ کے انتظامات بھی موجود نہیں، وہ تو صرف فوٹو سیشن کی حدتک عوام کے ہمدرد بنتے ہیں۔ اسپتالوں سے لوگ خوفزدہ ہیں یہاں تک کہ ڈاکٹر بھی لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اس دور میں اسپتال سے علاج کرنے کو ترجیح نہ دو کوشش کرو کہ گھر میں رہ کر اپنا اعلاج کرسکو۔ شام کو ٹی وی پر مباحثوں کو دیکھ کر عوام سوچتے ہیں کہ ملک میں کورونا نے قیامت بھرپا کررکھی ہے اور ہمارے منتخب نمائندے اور سیاسی لیڈر عوام کی زندگی بچانے کے کسی فارمولے پر بھی متفق نہیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔ ایسے نمائندوں سے ہم عوام کیا توقع رکھیں کہ وہ ہمیں کورونا، بھوک، مہنگائی، بے روزگاری یا کسی بھی آفت سے نجات دلائیں گے ۔