نامکمل کورم: بجٹ پاس SWWB

154

تجزیاتی رپورٹ پیش خدمت ہے۔ سندھ لیبر پالیسی کی سفارشات پر تمام متعلقہ لیبر ویلفیئر قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے سہ فریقی اداروں میں سرکاری و سیاسی بالادستی و انتظامی اختیارات کو کنٹرول کرنے کے لیے ترمیم کی گئی کہ اب ان سہ فریقی ادارہ جات میں 40 فیصد نمائندگی مزدور تنظیموں 40 فیصد نمائندگی صنعت کار تنظیموں اور 20 فیصد نمائندگی سرکاری و سیاسی ہوگی۔ اس ترمیم پر بہت شادیانے بجائے گئے کہ اب سندھ میں مزدوروں کے فلاحی اداروں میں سرکاری و سیاسی صرف 20 فیصد حصہ ہونے کے بعد دونوں فریقین (آجر اور اجیر) فیصلہ کن طاقت ہوں گے اور اداروں کے کثیر فنڈ اب املی و انتظامیہ بدعنوانیوں سے پک ہوجائیں گے۔ لیکن ’’بسا ارزو کہ خاک شد‘‘ سب کچھ حسب سابق جاری و ساری ہے جیسا کہ گزشتہ ہفتے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور سندھ سوشل سیکورٹی کے بجٹ اجلاسوں برائے 2020-21 منعقد کیے گئے اور جیسا چاہا بجٹ پاس کروالیا گیا۔ فی الوقت ہم ورکرز ویلفیئر بورڈ کے بجٹ اجلاس کے حوالے سے کچھ گوش گزار کررہے ہیں جس کی صدارت وزیر محنت سندھ سعید غنی نے کی۔ نامکمل کورم کے باوجود اجلاس کیا گیا اور بالآخر بجٹ 2020-21 پاس کروالیا گیا، ساتھ ساتھ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اجلاس میں گزشتہ مالی سال 2019-20 کا نظرثانی شدہ بجٹ بھی پاس کروالیا گیا۔ یعنی سال گزشتہ میں بجٹ کی منظور شدہ رقم سے جو زائد فالتو اخراجات کیے گئے وہ بذریعہ نظرثانی بجٹ موقع ٹیمنٹ دیکھ کر قانونی دائرہ کار میں لے گئے۔ 2020-21 کے لیے پیش کردہ بجٹ میں 8616ملین روپے مختلف مدوں میں مختص کیے گئے ہیں۔ نامکمل اجلاس کے حوالے سے 8 بورڈ ممبران (آجر اور اجیر) میں صرف 2 آجر اور 12 اجیر کے نمائندگان اجلاس میں شریک تھے جس میں ایک ممبران نمائندہ مزدور نے اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ دو غیر معروف صنعت کار بورڈ ممبر کنور ضیا الرحمن اور چودھری ریاض اجلاس میں بطور خاموش تماشائی شریک تھے جبکہ حقیقی نمائندہ صنعت کار EFP کے نائب صدر ذکی احمد خان بطور احتجاج اجلاس میں شرکت نہ کی جبکہ اجلاس میں موجودہ مزدور نمائندگان حبیب الدین جنیدی اور علی محمد میمن کا تعلق سرکاری پیپلز لیبر بیورو سے ہے۔ نیز بورڈ کے اجلاسوں میں مزدوروں کی بھرپور نمائندگی کرنے والے سینئر رہنم عبدالعزیز عباسی کو اس بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ طریقہ کار کے تحت بجٹ اجلاس کسی بھی ادارہ کا ہو تمام متعلقہ افراد کو 10 دن قبل بجٹ کا مسودہ و تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں تا کہ اس کے مطالعہ کے بعد بجٹ اجلاس میں بحث و مباحثہ کے بعد اس کو منظور کیا جاسکے۔ لیکن اس کے برعکس مزدوروں کے سہ فریقی فلاحی اداروں میں ہمیشہ سے اس جائز اخلاقی و قانونی پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ لہٰذا ان پس منظر و حقائق کی روشنی میں بجٹ اجلاس نہ صرف کورم کو نظر انداز کرکے بلکہ قبل ازوقت بجٹ دستاویزات فراہم نہ کرنے کی بنا پر غیر اخلاقی و مروجہ طریقہ کار کے منافی ہے۔ بجٹ میں بھاری رقم 3923.605 ملین روپے جاری و نئے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس مد میں اگر حقیقیت کو سمجھنا ہے تو یہ کافی ہے کہ کوٹری (تھانہ بولا خان) میں اس زمین پر 1500 فلیٹوں کا پراجیکٹ تعمیر کیا جارہا ہے جو کہ SWWB کی ملکیت ہی نہیں ہے جس کی تصدیق علاقہ مختار کار نے تحریری طور پر کی ہے اس منصوبہ کی کل لاگت 9 ارب روپے ظاہر کی ہے جس میں ابتدائی طور پر منصوبہ کے لیے 5 تعمیراتی کمپنیوں کو 25 کروڑ روپے کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ حقائق پر مبنی یہ تجزیہ تمام دستاویزات کے مشاہدہ کے بعد مزدور بردری کے لیے پیش خدمت ہے۔