چیف جسٹس سیسی میں کورونا پر کرپشن کا نوٹس لیں،شفیق غوری

186

سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے شفافیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ (آپ لوگ اربوں روپے خرچ کررہے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔) کچھ یہی صورتحال محکمہ محنت سندھ کے ادارہ سندھ سوشل سیکورٹی میں نظر آرہی ہے جہاں مزدوروں کے نام پر ماضی میں بھی اربوں روپے کی کرپشن کی گئی جن پر نیب ریفرنس دائر کرچکی ہے اور باقی معاملات انکوائری کی سطح پر ہیں۔ لیکن سیسی کی کرپٹ مافیا پر اس کا بھی کچھ اثر نہیں ہوا اور یہی کرپٹ عناصر کورونا وائرس کے دوران بھی لوٹ مار سے باز نہیں آئے۔ سندھ سوشل سیکورٹی میں وباء کے آغاز سے لے کر ماہ جولائی کے دوسرے ہفتہ تک پورے ادارہ میں صرف دس کرونا وائرس کے مریض قرنطینہ کے لیے داخل ہوئے ہیں۔ وہاں اب تک اس وباء کے نام پر 200 ملین سے زائد کی رقم خرچ کی جاچکی ہے اور مزید 25 کروڑ روپے اس مد میں مزید رکھے گئے ہیں۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ 200 ملین کی رقم بغیر کسی قانونی اجازت کے خرچ کردی گئی ہے اور اب اس کی منظوری لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تمام خریداری بغیر کسی ٹینڈر، اشتہار اور سپرا کے رولز کو نظرانداز کرتے ہوئے کی گئی ہے۔ جس کی ایک مثال 65 غیر معیاری وینٹی لیٹر کی خریداری ہے جن کی مالیت تقریباً 150 ملین کے قریب ہے۔ اسی طرح کمیشن و کرپشن کی لالچ میں غیر معروف کمپنیز سے مہنگے داموں میں کروڑوں روپے کا سامان جلدی جلدی میں خریدا گیا ہے کیونکہ انھیں اندازہ ہے کہ نا تو کورونا کے مریض نے سیسی کے ہسپتال آنا ہے اور نا ہی ان مشینوں اور سامان کا استعمال ہونا ہے۔ وباء کے خاتمہ کے ساتھ ہی یہ سامان اسٹور میں پڑا ہوگا۔ ہماری چیف جسٹس آف پاکستان سمیت تمام تحقیقاتی اداروں سے درخواست ہے کہ وہ سیسی میں کرونا وائرس کے نام پر کی جانے والی اس میگا کرپشن کا فوری نوٹس لیں اور مزدروں کے اس فنڈ کے کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔