جماعت اسلامی کی عوامی سماعت نے فیصلہ دیدیا

332

نیپرا نے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم کو کے الیکٹرک کے خلاف عوامی سماعت میں کراچی کی نمائندگی سے روک کر بڑا کارنامہ کیا تھا لیکن 11 جولائی ہفتے کے روز حافظ نعیم کی قیادت میں شارع فیصل پر جو عوامی سماعت ہوئی ہے وہ نیپرا، کے الیکٹرک اور سندھ اور وفاق کی حکومتوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ وفاقی حکومت بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ کرتی ہے اور اس کی پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے رکن اور کراچی کے صدر کے الیکٹرک کے خلاف وی آئی پی دھرنا دیتے ہیں۔ وی آئی پی یوں کہ ان دھرنے والے چند درجن لوگوں کے لیے کے الیکٹرک کی جانب سے پانی اور جوس کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔ لیکن جس نیپرا نے حافظ نعیم کو عوامی سماعت میں شرکت سے روکا اس کے خلاف حافظ نعیم کی عوامی سماعت نے فیصلہ دے دیا کہ عوامی سماعت کس کو کہتے ہیں۔ اس دھرنے نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ کے الیکٹرک کے معاملے میں بھی کراچی کی اصل نمائندہ جماعت اسلامی ہی ہے اور جماعت اسلامی نے نمائندگی اور تاجروں اور شہریوں نے شرکت کرکے جماعت پر اعتماد کا حق ادا کیا۔ کے الیکٹرک کا مسئلہ یہ ہے کہ اس پر اب جتنا دبائو ڈالا جاتا ہے وہ اتنا ہی کام کرتی ہے۔ جوں ہی جماعت اسلامی نے دھرنا دینے کا اعلان کیا تقریباً چار روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے والوں نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم نے کمیٹی بنا دی اور وہی سب کچھ کیا جو چینی، آٹا مافیا کے خلاف کیا تھا۔ جب جماعت اسلامی نے دھرنا دے دیا تو بڑی خوبصورتی سے کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے ایک سرکاری دھرنے اور سرکاری ٹیم کے حکام نے کے الیکٹرک سے مذاکرات کرکے اعلان کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے۔ اوور بلنگ کی شکایت وفاقی وزیر اسد عمر نے اپنے ذمے لے لی کہ میں خود نیپرا میں لے جائو گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ کسی وفاقی وزیر یا حکمران کی باتیں نہیں تھیں بلکہ ایک اپوزیشن لیڈر کی باتیں تھیں۔ جماعت اسلامی برسوں سے توجہ دلا رہی ہے کہ کے الیکٹرک سسٹم میں بجلی میں اضافہ نہیں کر رہی ہے۔ اسے مفت میں گیس مل رہی ہے۔ اپنا سسٹم بھی اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ ان شکایات کا ذکر کرنے کے بعد سرکاری دھرنا ختم ہو گیا لیکن سرکاری دھرنے میں کیے گئے اعلان کے باوجود شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری رہی۔ ویسے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جواز ہی نہیں بنتا اور طویل دورانیے کا تو کوئی جواز نہیں ہے۔ کے الیکٹرک کے ترجمان ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کے کال سینٹرز جھوٹ بولتے ہیں۔ عوام کو گمراہ کن جوابات دیے جاتے ہیں۔ شارع فیصل پر دھرنے میں جماعت اسلامی نے حکومت اور کے الیکٹرک کو تین دن کا الٹی میٹم دیا ہے ورنہ وزیراعلیٰ ہائوس اور گورنر ہائوس پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطالبات بہت واضح ہیں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی بات نہیں کی گئی بلکہ ٹیرف میں اضافہ فوراً واپس لینے کا مطالبہ اولین مطالبہ ہے۔ اس کے ساتھ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ ہے کیونکہ وہ معاہدے کی پاسداری اور شہر کو بجلی کی مسلسل فراہمی میں ناکام رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے بجا طور پر پی ٹی آئی کی گرفت کی ہے کہ اس نے کے الیکٹرک کی سرپرستی کے لیے احتجاج کا ڈراما کیا اور اصل مسئلے ٹیرف میں اضافے اور ناجائز بلنگ کو مذاکرات کے لیے رکھ چھوڑا۔ یہ کام حکومت کا نہیں ہوتا۔ حکومت تو عوامی مسائل حل کراتی ہے، اداروں کو پابند کرتی ہے ورنہ ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے میں نشاندہی کی گئی کہ صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کی گیس بند کرکے کے الیکٹرک کو دی جا رہی ہے۔ حافظ نعیم نے حکومتی دو رخی پالیسی کا پردہ چاک کیا اور بتایا کہ عمران خان کے الیکٹرک کو 90 ارب کی سبسڈی دے چکے ہیں۔ یہ سبسڈی تو عوام کو ملنی چاہیے۔ جماعت اسلامی کے تین دن کے الٹی میٹم اور سرکاری ڈارما دھرنے کے کیا نتائج آتے ہیں۔ اس کے لیے کسی انتظار کی ضرورت نہیں۔ جو بھی ریلیف مل رہا ہے وہ احتجاج اور آواز اٹھانے سے مل رہا ہے۔ سرکاری ڈرامے سے نہیں۔ سرکاری ڈرامے نے ایشو کو بدلنے کی پوری کوشش کی ہے۔ عوام کا مسئلہ ٹیرف میں اضافہ ہے۔لیکن سرکاری ڈرمے نے اسے صرف لوڈشیڈنگ تک محدود کر دیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔ بجلی کے بلوں میں کھلی بے ایمانی ہو رہی ہے۔ میٹروں میں گڑ بڑ الگ ہے۔ اوور بلنگ کی شکایات کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔ وہی ملزم وہی عدالت وہی منصف۔ ٹیکس دینے والے عوام مجرموں کی طرح کے الیکٹرک کے دفتر حاضر ہوتے ہیں اور انہیں لوٹنے والا ادارہ آجکل بدمعاش بنا ہوا ہے۔ اسے حکومت پاکستان، حکومت سندھ اور عدالت کی بھی سرپرستی حاصل ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ حکومت بھی کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ وہ یقیناً لیپا پوتی ہوگی لیکن عوام کو کچھ تو ریلیف ملے گا۔ مسئلے کا حل تو ادارے کو سرکاری تحویل میں لینا ہے تاکہ اس کا کوئی کنٹرول تو ہاتھ میں آسکے۔ اس کے لائسنس کو منسوخ کرکے اس کا آڈٹ کرایا جائے۔ وفاق نے جو 90 ارب سبسڈی کے طور پر اسے دیئے ہیں ان کا حساب لیا جائے۔ اسد عمر بڑے مزے سے کہہ گئے کہ کے الیکٹرک نے جو اضافی رقم وصول کی ہے وہ عوام کو واپس کرنی ہوگی… اسد عمر صاحب کے لیے چیلنج ہے کہ اورنگی یا کراچی کے کسی علاقے کے متوسط طبقے کے گھر کے بجلی کے بل کو عام آدمی کے طور پر کے الیکٹرک جا کر ٹھیک تو کرا کے دکھا دیں۔ وہاں 120 یا 80 گز کے گھر کے پچاس ہزار اور ڈھائی لاکھ کے بل کو ٹھیک کرانے جائیں تو صارف کی وہ گت بنتی ہے کہ الامان۔ یہ حکومت جو خود سبسڈی دیتی ہے۔ خود نرخ بڑھاتی ہے، عوام کو پیسے کس طرح دلوائے گی۔