پروفیسر انوار احمد زئی اور نسیم صدیقی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

104

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پسٹن گروپ آف ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ کے تحت گزشتہ دنوں وفات پانے والی دو معروف علمی شخصیات پروفیسر انوار احمد زئی اور نسیم صدیقی کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس دی انسپائریشن ماڈل اسکول کیمپس گلشن اقبال میں منعقد کیاگیا۔ تعزیتی ریفرنس کی صدارت پروفیسر انوار احمد زئی کے چھوٹے بھائی اور ناظم امتحانات بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن حیدرآباد پرفیسرمسرور احمد زئی نے کی تعزیتی ریفرنس کے دوران مختلف مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انوار احمد زئی اور نسیم صدیقی شائستگی کا نمونہ تھے ۔ اس موقع پر چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی پروفیسر ڈاکٹر سعید نے انوار احمد زئی کا سوانحی خاکہ‘ تعلیمی خدمات اور ان کی کتابوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انوار احمد زئی نے زندگی بھر جہالت کے خلاف جہاد کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال پر بھی کام کیا تھا۔ ان کی عمر نے وفا نہ کی ورنہ ہم ان کی صلاحیتوں سے مزید مستفیض ہوتے۔چیئرمین سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن سندھ پروفیسر ڈاکٹر مسرور احمد شیخ نے کہاکہ پروفیسر انوار احمد زئی نے معاشرتی مسائل‘ سیاسی مسائل اور عالمی مسائل پر اپنا قلم اٹھایا اور خوب داد وصول کی۔رجسٹرار ڈائریکٹوریٹ پرائیوٹ انسٹیٹیوشنز رافعہ جاوید نے کہا کہ پروفیسر انوار احمد زئی اورنسیم صدیقی پر بولنے کے لیے کئی گھنٹے ،کئی دن کی تحقیق چاہیے ،وہ غیر معمولی شخصیت کے حامل افراد ہیں۔کالم نگار نذیر لغاری نے کہاکہ انوار احمد زئی اورنسیم صدیقی نے ہمیشہ رشتوں کا احترام کیا۔حیدر علی نے کہاکہ وہ ایک کامیاب معلم‘ ماہر تعلیم‘ مبصر‘ نقاد‘ اعلیٰ منتظم اور مذہبی اسکالر تھے۔