موجودہ دور میں مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا،شہباز شریف

57

لاہور (نمائندہ جسارت) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہبازشریف نے پیٹرول بحران انکوائری کمیٹی کی تحقیقات متعین مدت میں مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھر ثابت ہوا کہ چینی کی طرح پیٹرول کے مجرم پکڑنے میں حکومت سنجیدہ نہیں ‘ نہ ہی اس میں جرأت واہلیت ہے‘ موجودہ حکومت مافیاز اور مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہے ہیں‘ پیٹرول بحران پر حکومتی رویے نے چینی اسکینڈل کی یاد تازہ کردی ہے ‘ پیٹرول بحران پر انکوائری کمیٹی کا 15 روز میں رپورٹ جمع نہ کرانا دال کالی ہونے کا اشارہ ہے‘ حکومتی ملی بھگت سے پیٹرول کے ذریعے قوم سے اربوںروپے لوٹ لیے گئے‘ موجودہ دور میں مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے‘ہر شخص محسوس کر رہا ہے کہ ملک میں حکومتی عمل داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب عوام کو پیٹرول نہیں مل رہا تھا تو ذخیرہ اندوزی کون کر رہا تھا؟ اس سوال کا جواب نہیں آیا‘ جون کے مہینے میں قلت کے دوران پیٹرول کی فروخت زیادہ کیوں ہوئی؟ یہ پراسرار معمہ حل نہیں ہوا ۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈائون اور تیل کی قلت کے باوجود فروخت اتنی زیادہ کیوں سامنے آئی؟ یہ امر حیران کن ہے کہ مئی کے مہینے میں فروخت 6 لاکھ 35 ہزار ٹن کیوں سامنے آئی ؟ مزید حیرت انگیز یہ ہے کہ جون میں پیٹرول کی کھپت 7 لاکھ 25 ہزار ٹن بتائی جا رہی ہے‘ یہ کیسے ہوا؟ لاک ڈائون کے باعث طلب میں کمی، قلت کے باوجود سیلز میں اتنا اضافے کا مطلب صرف ذخیرہ اندوزی ہے۔