عمرانی ٹیم کی منفرد کارکردگی

310

محترم وزیراعظم عمران خان نے مختلف دعووں کے ہجوم میں ایک دعویٰ یہ بھی کیا تھا کہ انہیں ٹیم منتخب کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور انہوں نے جو ٹیم منتخب کی ہے وہ لاجواب ہوگی۔ لیکن اب وہ اپنی منتخب کردہ ٹیم کو دھمکی دے رہے ہیں کہ کارکردگی دکھائو ورنہ گھر جائو۔ زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا۔ ان کی منتخب ٹیم میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ وزیراعظم سے کہہ سکیں کی آپ بھی تو کچھ کارکردگی دکھائیں۔ جس نے یہ کہا وہ گھر گیا۔ عمران خان کو ایسے ہی لوگ پسند ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ اس کام کے لیے ترجمانوں کی پوری فوج بھرتی کر رکھی ہے۔ ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی صورتحال یہ ہے کہ 11 جولائی ہی کو خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے کھلاڑی اور مشیر اطلاعات اجمل وزیر کو برطرف کر دیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اشتہاری کمپنی سے کمیشن طلب کر لیا جس کی وڈیو عام ہو گئی۔ اجمل وزیر چیخ چیخ کر کرپشن کے خلاف تقریر کیا کرتے اور عمران خان کے وژن کی حمایت میں رطب اللسان رہتے تھے۔ وہ کارکردگی دکھانے کے شوق میں کمیشن طلب کر رہے تھے مگر گھر جانا پڑا۔ عمرانی ٹیم کے اہم کھلاڑی اور عمران خان کا انتخاب وزیر مذہبی امور بھی تحقیقات کی زد میں ہیں اور نیب نے شکنجہ کس دیا ہے۔ ان سے حج کے بارے میں جاری اشتہارات کا حساب طلب کیا جا رہا ہے لیکن زیادہ سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے سرکاری عمارت اپنے کاروباری شریک کو دے دی کہ جائو عیش کرو۔ یہ پیر نور الحق قادری وہی ہیں جو اسلام آباد میں سرکاری خرچ پر مندر کی تعمیر کی حمایت کر رہے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ مدینہ کی ریاست میں مسلم اور غیر مسلم اقلیتیں سب برابر تھیں۔ پھر یہ جزیہ کس سے وصول کیا جاتا تھا اور کیا غیر مسلم اقلیتوں کو بھی زکوٰۃ دی جاتی تھی۔ بہرحال پیر صاحب بھی عمران خان کی ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ ایک کھلاڑی حلیم خان کراچی کے میدان میں کھیل رہے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سیکڑوں ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرکے اسے بیچ بھی دیا۔ آصف زرداری اور نواز شریف کے کارنامے تو سب کے سامنے ہیں جن کے حوالے اٹھتے بیٹھتے دیے جاتے ہیں۔ لیکن نیا پاکستان کی نئی منتخب ٹیم کے کارنامے بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں۔ شوگر مافیا کے سب سے بڑے کھلاڑی جہانگیر ترین ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں۔ ویسے تو زلفی بخاری اور علی زیدی پر بھی الزامات ہیں لیکن وہ چونکہ حکومت میں ہیں اس لیے نیب انہیں پوچھ گچھ کے بہانے بلا کر گرفتار نہیں کرتی۔ ایک کھلاڑی دوائوں کی قیمت میں اضافے کے مرتکب ہوئے۔ انہیں پکڑ کر نیب کے حوالے کرنے یا برطرف کرنے کے بجائے انہیں دوسری وزارت دے دی گئی۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے اہم کھلاڑی اور وزارت علیا کے امیدوار علیم خان پر بھی نیب نے جال پھینکا ہوا ہے۔ جانے یہ کس وزیراعظم نے کہا تھا کہ جس اینٹ کو اٹھائو اس کے نیچے سے گند ہی نکلتا ہے۔ یہ بات درست ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اہل اقتدار اس گند کو سمیٹ کر اپنے ڈرائنگ روم میں سجا لیتے ہیں اور پھر یہ گند عوام کے سر پر جا پڑتا ہے۔ محترم وزیراعظم کی اس دھمکی میں کہ ’’کارکردگی دکھائو ورنہ گھر جائو‘‘ میں یہ مفہوم شامل ہے کہ عمران خان خود اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔ انہوں نے صوبائی وزرا اور افسروں کے لیے بھی کارکردگی کو معیار قرار دیا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے لیکن اس سے خدشہ ہے کہ کئی وفاقی اور صوبائی وزرا کا صفایا ہو جائے گا۔ کہیں عمران خان تنہا ہی نہ رہ جائیں۔ جہاں تک افسروں کا معاملہ ہے تو عمران خان چیف سیکرٹریز اور آئی جی پولیس کو منتخب کرتے ہیں اور جلد ہی ان کی کارکردگی سے مایوس ہو کر انہیں چلتا کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اعلیٰ سرکاری افسران میں بددلی پھیل گئی ہے۔ عمران خان نے تنبیہ کی ہے کہ ’’بریفنگ بریفنگ کا سلسلہ ختم کیا جائے‘‘۔ لیکن محترم وزیراعظم خود بھی تو یہی کر رہے ہیں۔ بریفنگ لیتے ہیں، احکامات جاری کرتے ہیں لیکن عمل ندارد۔ مثال کے طور پر چینی اور آٹے کے بحران پر بریفنگ اور احکامات۔ نتیجہ کیا نکلا۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی اور آٹا غائب۔ عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ 54 روپے کلو ملنے والی چینی اب 70 روپے کلو میں بیچی جائے۔ اس حکم پر بھی عمل نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے حکم جاری کیا ہے کہ سرکاری گندم فوری مارکیٹ میں لائی جائے، اور سستا آٹا فراہم کیا جائے، زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا۔ محترم وزیراعظم، آپ بھی تو کام چلا ہی رہے ہیں۔ ملک کا حکمران ہوتے ہوئے ہر معاملے میں ’’گا، گے، گی‘‘ سے کام چل رہا ہے۔ یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا… یہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ ہوگیا۔ جس دن یہ مرحلہ آگیا سمجھ لیجیے کہ عمران خان وزیراعظم بن گئے۔ براہ کرم، یہ نہ کہیں کہ ’’صرف کارکردگی دکھانے والا میری ٹیم میں رہے گا‘‘۔ میدان خالی ہو گیا تو صرف ’’مرزا یار‘‘ سونی گلیوں میں پھرے گا اور اقتدار کی صاحباں بھی ہاتھ سے نکل جائے گی۔ عوام کو تو یہ بتائیں کہ چینی اور آٹا سستے ہوگئے، پیٹرول کا بحران پیدا کرنے والے جیل میں ڈال دیے گئے۔ عوام پر احسان کرتے ہوئے صرف مہنگائی ہی کو قابو کر لیں۔ جس نے غریبوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ درباری کہتے ہیں کہ وزیراعظم 18، 18 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ باقی چھ گھنٹے شاید یہ سوچتے ہوئے گزارتے ہوں کہ اب کس شے کی قیمت بڑھانی ہے۔ آپ کی ٹیم کے ایک کھلاڑی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے تو فضائی صنعت کا بھٹا بٹھا دیا۔ یہ کیسی ٹیم منتخب کی ہے؟