مسجد ایا صوفیا کی بحالی

328

ترکی کی تاریخی مسجد ایا صوفیا کو اپنی شناخت واپس مل گئی۔ سلطان محمد فاتح نے اسے مسجد کا درجہ دیا تھا لیکن 1934ء میں سیکولر حکمران مصطفٰے کمال نے اسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا۔ مصطفٰے کمال نے اپنے نوجوان فوجی ساتھیوں سمیت خلافت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ’اتا ترک‘ کا لقب اختیار کیا جس کا مطلب ہے ’’ترکوں کا باپ‘‘۔ لیکن ترکوں کی اکثریت اسے تسلیم نہیں کرتی اور مصطفٰے کمال کو غاصب اور لادین قرار دیتی ہے۔ پاکستان میں بھی اسکولوں کے نصاب میں ’’یورپ کا مرد بیمار‘‘ کے عنوان سے ایک سبق شامل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یورپ کے اس مرد بیمار ترکی کو مصطفٰے کمال نے نئی زندگی دی۔ بہرحال اب صدر رجب طیب اردوان نے مسجد کی حیثیت بحال کر دی ہے جس کے بارے میں حکم ہے کہ مسجد ہمیشہ مسجد ہی رہے گی۔ ایا صوفیا کی بطور مسجد بحالی پر پورے ترکی اور کئی مسلم ممالک میں جشن کا سماں ہے لیکن امریکا اور یورپی ممالک میں سوگ طاری ہے۔ واشنگٹن سے سخت ناراضی کا پیغام دیا گیا ہے اور یہ امریکا ہی ہے جس کی پشت پناہی سے قبلہ اول بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہودی انتہا پسند اور حکمران مسلمانوں پر اس مسجد میں داخلے پر پابندی لگا رہے ہیں اور یہودی اپنی فوج کی نگرانی میں بیت المقدس میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ رجب طیب اردوان نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہودی مسلسل مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنا رہے ہیں جس پر عالمی برادری احتجاج تک کرنے کی جرأت نہیں رکھتی۔ ایا صوفیا کی عمارت 538 عیسوی میں بازنطینی دور میں تعمیر ہوئی تھی لیکن جب سلطان محمد فاتح نے علاقے کو فتح کیا تو گرجا گھر کے پادریوں کو بھاری رقم دے کر اسے خرید لیا تھا۔ عیسائی اسے بیچ چکے ہیں چنانچہ اب اس عمارت پر ان کا کوئی حق نہیں رہا۔ مگر وہ اب بھی دعویدار ہیں۔ ایا صوفیا میں اذان دی جا چکی ہے اور ان شاء اللہ 24 جولائی سے باقاعدہ نمازیں شروع ہو جائیں گی۔ اسپین کی تاریخی مسجد قرطبہ بھی مسلمانوں کو واپس ملنی چاہیے۔ لیکن یہ کام طاقت اور عزم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ہندو انتہا پسندوں نے طاقت کے بل پر اجودھیا کی تاریخی بابری مسجد کو مسمار کر دیا لیکن نام نہاد عالم برادری اور امریکا و یورپ خاموش رہے۔