کراچی میں آج سے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا دعویٰ(K-Eتحویل میں لینے کا عندیہ)

207
کراچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر/خبر ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت گورنر ہائوس میں کے الیکٹرک سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شہر میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ زیر غور آیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد قاسم اور چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی ، اراکین سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی، حلیم عادل شیخ ،خرم شیر زمان، جاوید حنیف، میئر کراچی وسیم اختر اور کے الیکٹرک حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، بجلی کی ترسیل اور دیگر امور زیر غور آئے۔ اجلاس میں کے الیکٹرک حکام نے بجلی بحران پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کو 2950 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے اور اس وقت شہر میں 250 میگاواٹ بجلی کا شارٹ فال ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ کے الیکٹرک حکام جو شارٹ فال بتا رہے ہیں اس پر ایک گھنٹہ کی لوڈ شیڈنگ ہونی چاہیے لیکن شہر میں 6 سے 7 گھنٹہ کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ،یہ افسوس کی بات ہے کہ وفاق کے تعاون کے باوجود کے الیکٹرک شہر سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں ناکام رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کے الیکٹرک اپنی ذمے داری نبھانے میں ناکام رہا غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتیں متاثر ، بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کے پاس بجلی سر پلس میں موجود ہے کے الیکٹرک کو جتنی بجلی چاہیے وفاق دے سکتا ہے لیکن کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 720 میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم میں شامل نہیں کر سکتا کیونکہ کے الیکٹرک نے اپنے سسٹم کی صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ نہیں لگایا ،کے الیکٹرک کو عوام کی فلاح سے زیادہ اپنے منافع کی فکر ہے۔ وفاقی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ بن قاسم پاور پلانٹ میں اگر گیس پریشر کا مسئلہ ہے تو پلانٹ کو فرنس آئل پر چلایا جائے وفاق روزانہ 4500 ٹن فرنس آئل دے رہا ہے اورمزید 500 ٹن فرنس آئل دے سکتا ہے بن قاسم پاور پلانٹ کو فرنس آئل پر چلایا جاسکتا ہے بن قاسم چلنے سے سسٹم میں 190 میگا واٹ شامل ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کو مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنی پڑے گی ،کراچی کی پیک ڈیمانڈ 3500 سے 3600 میگا واٹ ہے – انہوں نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک اگلے 3 سال میں 2150 میگا واٹ بجلی سسٹم میں ڈالنے کے منصوبہ پر فوری کام کرے۔ اجلاس میں کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ اگلے سال گرمیوں تک نیشنل گرڈ کی مدد سے 550 میگا واٹ سسٹم میں ڈال دیے جائیں گے ،اپریل 2022 تک 800 میگا واٹ اور 2023 میں بھی مزید 800 میگا واٹ بجلی سسٹم میں ڈال دی جائے گی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اگر کے الیکٹرک کا رویہ درست نہیں ہوا تو وفاق کے ای کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے -بعد ازاں گورنر سندھ وفاقی وزیر اسد عمر کے ساتھ کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے باہر لگے دھرنے کی جگہ پہنچے اور شرکاء سے خطاب کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر یہاں آئے ہیں آج کے اجلاس میں کچھ چیزیں طے ہوئیں اس سے بجلی کی فراہمی کے بحران پر قابو پالیا جائے گا کل سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا،اوور بلنگ کا معاملہ خود نیپرا کے پاس لے کر جاؤں گا کے الیکٹرک کا نیپرا سے آڈٹ کرائیں گے،اوور بلنگ کی مد میں لیے گئے پیسے کے الیکٹرک واپس کرے گا۔ اگر کے ای معاملات درست نہیں کرسکا تو اسے قومی تحویل میں لیا جاسکتا ہے اور کراچی کے شہریوں کی خاطر کے الیکٹرک کے خلاف بھرپور طریقے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ گورنر سندھ اور وفاقی وزیر اسد عمر کی یقین دہانی کرانے پر دھرنا ختم کر دیا گیا۔