جماعت اسلامی کا حکومت اور کے الیکٹرک کو 3دن کا الٹی میٹم ‘وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس پر دھرنے کا انتباہ

245
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کے الیکٹرک کی بدترین لوڈشیڈنگ ، اوور بلنگ اور ٹیرف میں اضافے کیخلاف شاہراہ فیصل پر دھرنے سے خطاب کر رہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہم تین چار دن میں دیکھیں گے کہ شہر میں لوڈ شیڈنگ کی کیا صورتحا ل ہے پھر ہمارے پاس گورنر ہاوس، وزیر اعلیٰ پر دھرنا اور پوری شاہراہ فیصل کو بھی بند کرنے کا آپشن بھی موجود ہے ،ٹیرف میں 3روپے اضافے کا کراچی دشمن فیصلہ واپس لیا جائے،15سال کی نجکاری کا فارنزک آڈٹ کیا جائے ،ابراج گروپ کے پاس جو کے الیکٹرک کا لائسنس ہے اس کو منسوخ کیا جائے ، قومی تحویل میں لیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی کمیٹی بنائی جائے ،کلاء بیک کے اربوں روپے عوام کو واپس دیے جائیں ،اوور بلنگ ختم کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاہراہ فیصل نرسری پر کے الیکٹرک کی بدترین لوڈشیڈنگ ،اوور بلنگ،2.89روپے کے ظالمانہ اضافے اورحکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔دھرنے سے رکن سندھ اسمبلی و امیرجماعت اسلامی ضلع جنوبی سید عبد الرشید ،پبلک ایڈکمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ ،نائب صدر و کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے چیئرمین عمران شاہد،امیر جماعت اسلامی ضلع گلبرگ فاروق نعمت اللہ ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج جماعت اسلامی نے تقریباً 7گھنٹے تک کے الیکٹرک کے خلاف اور عوامی مسائل کے حل کے لیے شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا،جماعت اسلامی 2005میں واحد جماعت تھی جو کے ای ایس سی کی نجکاری کے خلاف تھی اور لوگ اس کی نجکاری کی حمایت کررہے تھے، ایم کیو ایم جو کراچی کے لیے بڑی بڑی باتیں کرتی ہے اس وقت مشرف کے ساتھ حکومت میں تھی اور وہ کراچی کے اس اہم ادارے کو فروخت کرنے میں شریک تھی ،میڈیا بھی ایم کیو ایم کے کنٹرول تھا ،کے ای ایس سی کے ملازمین 87دن تک احتجاج اور دھرنا دیتے رہے ،جماعت اسلامی کے امیر محمد حسین محنتی ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے جاتے رہے لیکن کوئی اور پارٹی ان ملازمین کے احتجاج کی حمایت کرنے نہیں آئی ،انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت میں ایک نئی کمیٹی متعارف کرائی اور اسے دوبارہ فروخت کیا گیا اور اس وقت بھی ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت کے ساتھ شریک تھی اس کے خلاف بھی نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے پٹیشن دائر کی،پیپلز پارٹی 2009سے 2013تک حکومت میں رہی اور پھر جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو اس نے بھی کے الیکٹرک اور ابراج گروپ کی حمایت اور سپرستی جاری رکھی۔انہوں نے کہاکہ 2015میں جب شہر میں ہیٹ اسٹروک آیا تو کے الیکٹرک نے سخت گرمی میں بھی اپنے پلانٹ بند رکھے اور ہزاروں افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ،نیپرا نے اس قتل اور جرم پر کے الیکٹرک کے خلاف صرف چند کروڑ کا جرمانہ عائد کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کے الیکٹرک کے خلاف عدالتوں میں بھی درخواستیں دائر کردیں،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں میں پٹیشن دائر کیں لیکن افسوس کہ عدالتوں سے بھی کراچی کے عوام کو انصاف نہیں ملا، ہم چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے خلاف نوٹس لیںاور کراچی کے عوام کوانصاف اور ریلیف دلائیں ، ستم ظریفی یہ ہے کہ سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کے درمیان کوئی سیل ایگریمنٹ ہی نہیں ہوا ہے جبکہ کے الیکٹرک گیس کمپنی کی اربوں روپے کی نادہندہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ دوسال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور وزیر اعظم بہت ایماندا ر بنتے ہیں لیکن انھوں نے بھی کرپشن اور سرپرستی کا سلسلہ جاری رکھا اور کے الیکٹرک کو دوسال میں 90ارب روپے کی سبسڈی دی ،یہ نہیں پوچھا کہ یہ کمپنی منافع تو اربوں روپے کمارہی ہے اس نے نجکاری کے معاہدے کی کتنی شقوں پر عمل کیا ،سرمایہ کاری کتنی کی ،اپنے نظام کو درست کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے کیا گیا لیکن اس حکومت نے بھی کے الیکٹرک سے کوئی حساب نہیں لیا،اس حکومت نے کے الیکٹرک کی گرفت کرنے کے بجائے ٹیرف میں ظالمانہ اضافہ کردیا اور عوام پر بجلی بم گرادیا۔موجودہ حکومت بھا ن متی کا کنبہ ہے کہیں کی اینٹ کہیں کا روڈہ بھان متی نے کنبہ جوڑا ۔ایک وزیر کہتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ جلد ختم ہوجائے گی ،ایک کہتا ہے کہ دوسال لگیں گے ایک کہتا ہے کہ کے الیکٹرک اگر 500میگاواٹ مزید دے بھی دیے جائیں تو اس کا نظام اس کو سہار نہیں سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے بیانات تو بہت دیے مگر کسی نے بھی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ نہیں کیا۔ سید عبد الرشید نے کہا ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام کے خلاف ہے، یہ گٹھ جوڑ کراچی کے عوام کا استحصال کر رہا ہے،کے الیکٹرک کے خلاف اگر گورنر ہاؤس پر دھرنے کا اعلان کیا گیا تو صرف لیاری کے عوام ہی کافی رہیں گے، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو ظلم سے نجات دلاسکتی ہے،کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی برسوں سے احتجاج کر رہی ہے،پی ٹی آئی کا کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج ڈرامے کے سوا کچھ نہیں،پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اپنی وفاقی حکومت سے ہی مطالبات کررہیں ہیں،پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے الیکٹرک کے خلاف بیانات مگر مچھ کے آنسو کے مترادف ہے،ایم کیو ایم نے لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے علیحدگی کی کوئی دھمکی کیوں نہیں دی۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ کے الیکٹرک پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا چھوٹو بدمعاش ہے ، جسٹس وجیہہ الدین نے واضح طور پر کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج اور بیانات اس لیے نہیں کرسکتی کیونکہ یہ اس سے پارٹی فنڈنگ حاصل کرتے ہیں،کے الیکٹرک کے خلاف جدوجہد اس ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے ، جس کے تحفظ کے لیے یہ تمام پارٹیاں موجود ہیں ،کے الیکٹرک نے شہر کے اندر ایک غنڈہ گردی کا نظام بنایا ہوا ہے اور اس کی دیدہ دلیری اس لیے ہے کہ تمام حکمران پارٹیاں اس کے ساتھ ہیں اور اس سے بھتہ وصول کرتی ہیں ۔عمران شاہد نے کہاکہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کے ساتھ ایک بہت بڑا دھوکا اور کرپشن کی طویل داستاں ہے ، پہلے دن سے عوام کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا ،نجکاری نے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا گیا ،جماعت اسلامی نے نیپرا کے اندر کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑا،اصل حقائق اور درست اعدادوشمار کی بنیاد پر کے الیکٹرک کا اصل چہرہ بے نقاب کیا اور ثابت کیا کہ اس کا ٹیرف پہلے ہی زیادہ اور مہنگا ہے اور سے کم ہونا چاہییے نہ کہ مزید اضافہ کیا جائے ،نیپرا کے طارق خان سدوزئی نے تسلیم کیا کہ کے الیکٹرک نے کراچی کے عوام کو دھوکا دیا ہے اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر 62ارب روپے وصول کیے ہیں وہ عوام کو واپس ملنے چاہییں ۔شاہد خاقان عباسی نے خود کراچی آکر کے الیکٹرک کو سوئی سدرن گیس سے گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جب گیس کمپنی نے نادہندہ ہونے پر کے الیکٹرک کو گیس دینے سے معذرت کرلی تھی اب ایک بار پھر وہی عمل دہرایا جارہا ہے اور کے الیکٹرک کو اضافی گیس دلانے کا فیصلہ کیا گیاہے اور یہ گیس سی این جی اسٹیشنوں اور صنعتوں کو بند کر کے فراہم کی جائے گی ۔ فاروق نعمت اللہ نے کہاکہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی جدوجہد کی ہے اور آج بھی یہ جدوجہد جاری ہے ، کے الیکٹرک کی آج جس طرح حمایت کی جارہی ہے ،ماضی میں بھی اسی طرح کیا گیا ہے گورنر عشرت العباد اور گورنر محمد زبیر کی طرح گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی ایک طے شدہ اسکرپٹ کے تحت کے الیکٹرک کی مشکلات ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں بھی عوام کے مسائل اور مشکلات کاکوئی خیال نہیں ہے ۔