بوسنیائی مسلمانوں کے قتلِ عام کو 25 سال بیت گئے

777

بوسنیا کی تاریخ کے میں 1992 سے 1995 کا دور ایسا تھا جس میں 8000 سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا ۔

بوسنیا یورپ میں واقع چھوٹا افریقی ملک ہے ، یورپ میں قتل کا عام کا یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد واحد واقعہ تھا جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیا گیا، 11 جولائی کو سن 1995 کو بوسنیائی سَرب فوجوں نے بوسنیا ہرزیگووینا میں سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کرلیا جبکہ دو ہفتے میں منظم طریقے سے 8000 سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کردیاگیا۔

Was the Srebrenica genocide aimed at the wider Muslim presence in ...

بوسنیائی سرب یونٹس کے کمانڈر راتکو ملادچ کے فوجی قتلِ عام شروع کر رہے تھے جبکہ وہ خود خوفزدہ شہریوں کو بے خوف رہنے کا مشورہ دے رہے تھے، قتل عام کا یہ سلسلہ 10 روز تک جاری رہا۔ اسلحے سے لیس اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے ’پناہ گاہ‘ قرار دیے گئے اس علاقے میں اپنے اردگرد جاری تشدد کو روکنے کیلئے کوئی کردار ادا نہ کیا، یہ قتلِ عام بوسنیائی جنگ کے دوران بوسنیائی سرب فورسز کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کا ایک حصہ تھا، بوسنیائی جنگ سنہ 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے بکھرنے کے دوران ہونے والے کئی مسلح تنازعات میں سے ایک تھی۔

اسوقت کے اقوام متحدہ کے سیکریٹری کوفی عنان نے بعد میں کہا کہ ” سربرینیکا کا سانحہ ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ کے لیے ایک بھیانک خواب بنا رہے گا”۔

Srebrenica: 25 years on, Europe remembers its largest massacre ...

سوشلسٹ ریپبلک آف بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کہلانے والی یہ ریاست یوگوسلاویہ کا حصہ تھی اور یہاں کئی اقوام آباد تھیں جن میں بوسنیائی مسلمان، قدامت پسند سرب سمیت  کیتھولک کروٹ افراد شامل تھے۔بعد میں بوسنیا ہرزیگووینا نے سنہ 1992 میں ایک ریفرینڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور کچھ ہی عرصے بعد امریکی اور یورپی حکومتوں نے اسے تسلیم کرلیا۔تاہم بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ اس کے بعد جلد ہی سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے نئے تخلیق شدہ اس ملک پرحملہ کردیا تھا ۔1993 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس علاقے کو ’کسی بھی مسلح حملے یا کسی دیگر دشمنانہ کارروائی سے محفوظ علاقہ‘ قرار دیا تاہم محاصرہ جاری رہا۔

ایسے میں شہریوں اور اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں کے طور پر کام کر رہے ڈچ فوجیوں کی چھوٹی سی فورس کے لیے رسد ختم ہونی شروع ہوگئی اور  بوسنیائی رہائشی بھوک سے مرنے لگے۔

25 years from the Srebrenica genocide: a nation divided - Vatican News

انھوں نے اس علاقے سے بوسنیائی لوگوں کو نکالنا شروع کردیا تاکہ نام نہاد ‘گریٹر سربیا’ بنایا جا سکے او ر یہی پالیسی نسلی کشی کے مترادف تھی۔

بوسنیائی لوگ اکثریتی طور پرمسلمان ہوتے ہیں اور یہ بوسنیائی سلاو نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے قرونِ وسطیٰ کے دور میں عثمانی ترک حکمرانی کےعرصے میں اسلام قبول کیا تھا۔

جولائی 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سریبرینیکا پر شدومد کے ساتھ حملہ کیاکہ اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈالتے ہوئے شہر سے پیچھے ہٹ گئی، جنرل ملادچ دوسرے جرنیلوں کے ساتھ شہر میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور گشت کیا۔ تقریبا 20 ہزار مہاجرین اقوام متحدہ کے مرکزی ڈچ کیمپ کی جانب فرار ہوگئے۔ دوسرے دن سے قتل و غارت گری کا آغاز ہوا۔ جب مسلمان پناہ گزینوں نے شہر چھوڑنے کے لیے بسوں پر سوار ہوئے تو بوسنیا کی سرب فورسز نے مردوں اور لڑکوں کو بھیڑ سے علیحدہ کیا اور انھیں وہاں سے دور لے گئے تاکہ انھیں گولی مار کر ہلاک کردیں۔ ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی اور پھر بلڈوزروں کے ذریعہ ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دھکیل دیا گیا جبکہ بعض افراد کو تو زندہ ہی دفن کر دیا گیا تھا جبکہ کچھ بڑے بوڑھوں کو اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مارے جاتے ہوئے دیکھنا پڑا۔

Why Did Ratko Mladic Commit Genocide Against Bosnia's Muslims ...

اس دوران خواتین اور لڑکیوں کونقل مکانی کرنے والوں کی قطار سے نکال کرلے جایا گیا اور ان کا ریپ کیا گیا، شاہدین کا کہنا ہے کہ سڑکیں لاشوں سے پٹی پڑی تھیں۔اقوام متحدہ  اور کم سازوسامان والے ڈچ فوجی جارحیت دیکھتے رہے اور انھوں نے کچھ نہ کیا یہاں تک کہ ان کے کیمپ میں پناہ گزین 5 ہزار مسلمانوں کو ان کے حوالے کردیا۔

الم ناک سانحےو نسل کشی کے 25 سال بعد آج بھی متاثرین کی لاشیں اور اجتماعی قبریں ملتی ہیں ، سن 2002 کی ایک رپورٹ میں نیدرلینڈز کی حکومت اور فوجی عہدیداروں پر ان ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا۔ رپورٹ کے پیش نظر پوری حکومت نے استعفیٰ دے دیا۔ سن 2019 میں ملک کی عدالت عظمیٰ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں نیدرلینڈ کو سریبرینیکا میں 350 افراد کی اموات کیلئے جزوی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

How White Nationalists Are Inspired by the Bosnia Genocide

سربیا نے جنگ کے خاتمے کے بعد رونما ہونے والے جرائم پر معذرت کی لیکن پھر بھی اس نے اسے نسل کشی ماننے سے انکار کیا ہے۔