سماجی کارکن سیدہ اوجِ فاطمہ کا انٹرویو

276

انسا نوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسانوں کی مددکےعمل کودین اسلام نے خدمت ِ انسا نیت کو بہترین اخلاق اورعظیم عبادت قرار دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو یکساں صلا حیتوں اور اوصاف سے نہیں نوازا بلکہ اُن کے درمیان فرق وتفا وت رکھا ہے اور یہی فرق و تفاوت اس کا ئنات رنگ وبو کا حسن ہے، دنیا کا یہ ضابطہ ہے،کوئی انسان تنہا زندگی بسر نہیں کرسکتا،ہرانسان زندگی بسرکرنے میں دوسرے انسانوں کا محتاج ہے اور  ہر انسان کی زندگی دوسرے انسانوں کے تعاون کے ساتھ جڑی ہوئی ہے،ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے اورتعاون لیتے ہوئے ہی انسان کو زندگی کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور ایک مثالی معاشرہ وہی ہوتا ہے۔پاکستان میں ایسے کئی افراد گزرے ہیں، جنہوں  نے اپنے انفرادی کاموں اور دکھی انسانیت کی خدمت  کرتے ہوئے خود کو پیش کیا ۔

 اس  فہرست میں سب سے بڑا نام عبدالستار ایدھی ہے،  جنہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کو نہ صرف اپنا پہلا فریضہ سمجھا بلکہ اس کیلئے دن رات ایک کیا ۔ انہی کوششوں اور کاوشوں کا صلہ تھاکہ ایدھی  صاحب نے دنیا کی بڑی ایمبولنس سروس بنائی ، ضعیف افراد کے لیے شیلٹر ہوم بنائے ، بچوں کو گھر دیئے اور ایسے کئی کام جن پر انسانیت فخر کرتی ہے ایدھی صاحب نے سرانجام دیے ، ایدھی جب جہانِ فانی سے کوچ کرگئے تو ملک خداداد کے  ہر شہری نے انکو یاد کیا اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے دعائیں کیں جب حیات تھے تو لوگ لاکھوں اور کروڑوں روپے ایدھی صاحب کو ایسے دے جایا کرتے تھے جیسے انہیں اتنا ہی یقین ہو جیسے اپنے ایمان پر ۔

گزشتہ کچھ مہینوں سے مسلسل لاک ڈاؤن اور کورونا وبا کے دوران ہزاروں افراد اس بیماری کا شکار ہوئے کچھ کو زبردستی بھی  بنادیاگیا لیکن ایسے میں لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون  ایسے افراد  کاسہارا بنیں جو لوگ کورونا کی بیماری  میں مبتلا ہوئے انہیں گھر کا بناہوا کھانا کھلاتی  رہیں ہیں، جس کیلئے وہ کسی سے نہ مدد مانگ رہیں ہیں اور نہ کسی سے درخواست کررہی ہیں ، آئیے آپ کو ان کا تعارف کراتے ہیں ، سیدہ اوجِ فاطمہ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے ۔

 

جسارت نے کورونا وائرس کے باعث  حکومتی ایس او پیز پر عمل اور سماجی فاصلے کی احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرویو فون پر کیا اور ان کی حوصلہ آفزائی کی ، اوجِ فاطمہ سے سوال کیا گیا کہ وہ کتنے عرصے سے کورونا مریضوں کا خیال رکھ رہیں ہیں اور کن مشکلات کا سامناہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کوروناوائرس کے باعث احتیاطی تدبیر کےساتھ لوگوں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ دیگر مخیر حضرات بھی ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔

انہوں نے بتایا کہ گرشتہ ایک ماہ سے مسلسل کورونا میں مبتلا مریضوں کیلئے گھر میں خود  کھانا بناتی ہوں اور ان لوگوں تک پہنچاتی ہوں ، جب میں نے اس کام کا آغاز کیا تھا تو صرف 25 فیملیز کو کھانا پہنچاتی تھی مگر اب تعداد بڑھ کر 120 ہوگئی ہے ، جنہیں وہ خود اپنے اخراجات سے کھانا کھلاتی ہیں ۔

 ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں کورونا مریضوں کو کھانا اسپتالوں اور گھروں دونوں جگہ پہنچاتی ہوں  اور یہ کام اللہ کی رضا اور انسانیت سے پیار کے جذبے کے باعث سرانجام دے رہی ہوں ۔

ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ صوبائی اور وفاقی حکومت سے کوئی مدد چاہتی ہیں تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اچھے کام کیلیے کسی کی مدد درکار نہیں البتہ جب اللہ نے انہیں نوازا  ہے  تووہ یہ کام جاری رکھیں گی ۔

انہوں کہا سوشل میڈیا موجودہ دور میں رابطے کا آسان ذریعہ ہے جس سے میں لوگوں کی مدد کرتی ہوں جبکہ میں اپنا نمبر بھی سوشل سائٹ پر شئیر کیا ہےجس کے باعث کئی لوگ مجھے پریشان بھی کرتے ہیں ، میری ان تمام افراد سے گزارش کہ وہ ایسے کام نہ کریں بلکہ نیکی کے کاموں میں ساتھ دینے کی کوشش کریں ۔

سیدہ اوجِ فاطمہ نے مزیدکہا کہ میں کسی فلاحی تنظیم یا ادارے سے وابستہ نہیں ہوں بلکہ ازخود اس کام کو کرتی ہوں اور کرتی رہوں گی ، انہوں  نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ میری اللہ سے دعا  ہےکہ وبا جلد از جلد ختم ہوتاکہ لوگ پھر سے اپنے پیاروں کو گلے لگا سکیں ۔