امیر جماعت اسلامی کراچی نے چیئرمین نیپرا کے بیان پر وضاحت کردی

324

چیئرمین نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے سے متعلق عوامی سماعت میں جماعت اسلامی کی نمائندگی نہ ہونے کے بیان پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے وضاحت پیش کردی۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ چیئرمین نیپرا نے استفسار کیا کہ آپ کے الیکٹرک سے متعلق ہونے والی عوامی سماعت پر شریک نہیں ہوئے جس پر انہیں بتایا گیا کہ جماعت اسلامی کے نمائندے  عمران شاہد نیپرا حکام سے مسلسل رابطے میں تھے مگر انہیں آنے نہیں دیا گیا ۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وہ بھی اپنے دفتر سے آن لائن سماعت میں شرکت کے لیے موجود رہے تاہم انہیں لنک فراہم نہیں کیا گیا، مسلسل رابطوں کے باوجود نیپرا حکام نے لنک نہیں دیا، چیئرمین نیپرا کو دیکھیں کہ ماتحت افسران نے کیوں لنک فراہم نہیں کیے؟ جماعت اسلامی کو نمائندگی سے کیوں روکا  گیا؟

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہمارا کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں ہے ہم کے الیکٹرک کے مظالم اور عوامی شکایات کو تحریری طور پر نیپرا کے پاس جمع کروائیں گے اور دھرنے میں کے الیکٹرک کو بے نقاب کریں گے تمام حقائق سامنے رکھیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج شام 4بجے شارع فیصل نرسری پر ہر صورت میں دھرنا ہوگا‘ عوامی دبائوسے کے الیکٹرک کے مظالم کو روکیں گے‘حکومت اور انتظامیہ رکاوٹ نہ بنے‘پر امن مظاہرے کو روکنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمے داری حکومت پر عاید ہوگی‘ جماعت اسلامی کے الیکٹرک کے خلاف آئینی ،سیاسی ، قانونی اور جمہوری طریقے سے جدوجہد کرے گی ۔

 انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا‘ پہلے بھی کے الیکٹرک کی چوری اور غنڈہ گردی کے خلاف کامیاب مہم چلائی ہے ‘عوام ،تاجر ودیگر سماجی طبقے کے افراد کے الیکٹرک کے خلاف دھرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں‘ پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سپورٹرز بھی شارع فیصل کے دھرنے میں شرکت کریں ‘پی ٹی آئی والے کس چیز کا احتجاج کر رہے ہیں ؟اگر احتجاج کرنا ہے تو وزیر اعظم ہائوس کے سامنے کریں ‘ پی ٹی آئی کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرہ اس لیے کر رہی ہے تاکہ کے الیکٹرک کو سوئی گیس سے اضافی گیس دلوائی جا سکے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کو 2018ء اور 2019ء میں 90ارب کی سبسڈی دی گئی لیکن اس کے باوجود لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ جاری ہے۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ کے الیکٹرک مافیا نے کراچی کے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے‘حکمران جماعتیں کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہیں ‘ کراچی کے عوام نوسربازوں کے دھوکے میں نہ آئیں بلکہ ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

وفاقی حکومت کی ہدایت پر کے الیکٹرک کو فائدہ پہنچانے کے لئےجماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کو سماعت میں شرکت سے روک دیا گیاتھا۔

نائب صدر پبلک ایڈ کمیٹی وانچارچ کے الیکٹرک سیل عمران شاہد نے کہا کہ  نیپرا نے کے الیکٹرک کو فائدہ پہنچانے کے لئے آن لائن سماعت کا ڈھونگ رچایا ہے ، نیپرا کے اس رویہ پر شدید احتجاج کرتے ہیں، واضح ہوگیا کہ حکومت، نیپرا، کے الیکٹرک گٹھ جوڑ رکھتی ہے۔