نجکاری کے باوجود کے الیکٹرک میں بہتری نہیں آرہی،نیپرا کا اعتراف

127

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نے کہا ہے کہ نجکاری کے باوجود کے الیکٹرک میں بہتری نہیں آ رہی اور لوڈشیڈنگ ختم ہونے تک کے الیکٹرک کے مختلف ٹیرف ختم کردینے چاہئیں۔چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت نیپرا میں کے الیکٹرک کے حوالے سے عوامی سماعت ہوئی جس میں نیپرا اتھارٹی کے تمام ممبران اور دیگر نے شرکت کی۔وائس چیئرمین نیپرا سیف اللہ چٹھہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کا مقصد کے الیکٹرک کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کو دور کرنا ہے۔ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) مونس علوی نے کہا کہ اس وقت نیشنل گرڈ سے 730 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے‘ اس سے زیادہ بجلی لی تو سسٹم میں خرابی ہو سکتی ہے‘ بجلی کی پیداوار کے لیے ہمارے پاسفرنس آئل اور گیس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘ ان دونوں چیزوں کی قلت کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوا‘ لوڈشیڈنگ کی موجودہ صورتحال میں کے الیکٹرک کا کوئی قصور نہیں۔ ایم این اے آفتاب صدیقی نے وڈیو لنک کے ذریعے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کا ٹرانسمشن نیٹ ورک بہت خراب ہے‘2 دن کی بارش سے 6 افراد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے‘ کے الیکٹرک سے پوچھا جائے کہ اس کی ذمے داری کیا ہے۔چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے سی ای او کے الیکٹرک سے کہا کہ آپ نے بجلی کی طلب کا اندازہ کیوں نہیں لگایا؟ آپ ذمے داری لیں یا نہ لیں‘ آپ ہمیں فیل کر رہے ہیں‘ نجکاری کے باوجود کے الیکٹرک میں بہتری نہیں آ رہی‘11مہینے سے آپ نے گرڈ اسٹیشنز کو اپ گریڈ نہیں کیا‘ آپ کو وفاق اضافی بجلی فراہم کر بھی دے تو آپ کی صلاحیت نہیں کہ وہ اٹھا سکیں۔چیئرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی کی تقسیم اور پیداوار سمیت تمام تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اسکول، کالجز اور شادی ہال بند ہونے سے کراچی میں بجلی کی 300 سے 400 میگا واٹ طلب کم ہے‘اگر اب یہ صورت حال ہے تو جب اسکول کالجز اور شادی ہال کھلیں گے تو پھر کیا ہوگا۔ پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے وڈیو لنک پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا بطور ریگولیٹر اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکا ہے‘ اس نے کراچی کے شہریوں کو ایک اجارہ دار کمپنی کے سامنے چبانے کے لیے پیش کردیا ہے‘ کے الیکٹرک کو بتانا ہوگا کہ کتنے عرصے میں لوڈشیڈنگ ختم کر سکتا ہے۔ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی سماعت چھوڑ کر چلے گئے جس پر چیئرمین نیپرا نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ اپنا وقت نکال کر عوامی مسئلے پر یہاں بیٹھے ہیں‘ سی ای او صاحب چلے گئے ہیں‘ہم لوگ اتنے فارغ ہیں جو اس اہم معاملے پر سماعت کررہے ہیں۔ چیئرمین نیپرا کی برہمی پر مونس علوی واپس آگئے۔ چیئرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کے مختلف ٹیرف یکساں کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوتی‘ پیک اور آف پیک ٹیرف ختم کر دیا جانا چاہیے‘ عوامی تاثر ہے کہ پیک ٹیرف میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہوتی ہے جب تک حالات معمول پر نہیں آجاتے ٹیرف یکساں ہو جانا چاہیے۔چیئرمین نے کہا کہ نیپرا دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی بھی نجکاری کرنا چاہتا ہے لیکن کے الیکٹرک کی کارکردگی دیکھیں تو ایسا کرنا ممکن ہوتا ہوا نظر نہیں آتا‘ الٹا کے الیکٹرک کی کارکردگی کی وجہ سے اسے قومیانے کی تجاویز آرہی ہیں۔نیپرا نے کراچی لوڈشیڈنگ معاملے پر سماعت مکمل کرتے ہوئے کہا کہ تمام حقائق اور تجاویز کا جائزہ لے کر فیصلہ سنائیں گے۔