بھارتی پولیس نے گرفتار بدمعاش کو جعلی مقابلے میں ہلاک کردیا

344
کانپور: جعلی پولیس مقابلے کے مقام پر پولیس اہل کار اور لوگ جمع ہیں‘ زخمی قرار دیے گئے اہل کاروں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی پولیس نے 8اہل کاروں کے قتل سمیت درجنوں مقدمات میں ملوث وکاس دوبے کو جمعرات کے روز حراست میں لینے کے اگلے ہی دن جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وکاس دوبے اترپردیش کے شہر کانپور میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ محکمے کے مطابق دوبے کو جمعہ کی صبح جیل منتقل کیا جا رہا تھا کہ کانپور کے قریب پولیس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا، اس دوران دوبے نے پولیس اہل کار سے پستول چھین کر فائرنگ کی کوشش کی اور وہ جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ حادثے میں کچھ اہل کار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ وکاس دوبے کو 4 گولیاں لگیں۔ بعد ازاں طبی ذرائع نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔ دریں اثنا حزب اختلاف کی بھارتی جماعت کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی نے وکاس دوبے کے مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے پر اتر پردیش کی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مجرم کا خاتمہ تو ہوگیا لیکن اس کے جرائم کو تحفظ دینے والوں کا کیا ہوگا؟ کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ کئی لوگوں نے پہلے ہی خدشات ظاہر کیے تھے۔ علاوہ ازیں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کانپور واقعہ کی تحقیقات عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس، جرائم اور سیاست کے مابین روابط کی بھی تفتیش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطرناک مجرم کو کانپور لاتے وقت پولیس کی گاڑی کو پیش آنے والے واقعے اور مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہیے۔