این سی او سی نے 15 ستمبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کی منظوری دے دی

115
اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(اے پی پی+آن لائن)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے،جولائی کے دوسرے ہفتے سے ایس او پیز کے تحت فنی تعلیم اور مدارس کو امتحانات لینے کی اجازت ہو گی، عید کے بعد یونیورسٹیوں کو اختیار ہو گا کہ وہ 30 فیصد طلبہ کو ہاسٹلز میں رکھ سکیں۔جمعرات کوپریس کانفرنس کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں ستمبر میں تعلیمی ادارے کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے جس کی این سی او سی کے اجلاس نے بھی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے 15 ستمبر کو کھولے جائیں گے، تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے اگست میں ماہرین صحت کے ساتھ 2 اجلاس ہوں گے جس میں کورونا وائرس کی وبا کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر حالات موافق نہ ہوئے تو تعلیمی ادارے نہیں کھولے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جولائی کے دوسرے ہفتے سے فی تعلیم کے ادارے امتحانات لے سکیں گے جبکہ مدارس کو بھی امتحانات لینے کی اجازت ہو گی، امتحانات کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی ہو گا اور جو ادارے ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے ان کو امتحانات لینے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو اساتذہ اور اسٹاف بلانے اور دفاتر کھولنے کی اجازت ہو گی۔ یونیورسٹیاں عید کے بعد 30 فیصد طلبہ کو ہاسٹل میں بلا سکیں گے جن علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے یا جو طلبہ تحقیقی کام کر رہے ہیں ان کو ترجیحی دی جائے گی،ادارے اسٹاف اور بلائے جانے والے طلبہ کا ٹیسٹ کرانے کے پابند ہوں گے، تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے ایس او پیز کی تیاری کے لیے تجاویز آ رہی ہیں، صوبوں سے بھی کہا ہے کہ ایس او پیز کی تیاری کے لیے تجاویز دیں ،تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جائیں گے، پہلے بڑے بچوں کو بلایا جائے گا، کلاسوں کو تقسیم کرنے کی بھی تجویز ہے تاکہ بچوں کے درمیان فاصلے کو برقرار رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات سے آگاہ ہیں،ان کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں جن پر فیصلہ جلد ہو جائے گا، تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے اگست میں مشاورتی اجلاس ہوگا جس میں کورونا وباسے متعلق جائزہ لیا جائے گا ،اگر حالات ساز گار نہ ہوئے تو ستمبر میں تعلیمی ادارے نہیں کھولیں گے ، صوبوں سے تجاویزمانگیں گئی ہیں جس پر متفقہ فیصلہ کیا جائے گا،ریسرچ کے معاملے پر یونیورسٹیاں فیصلے کرنے میں آزاد ہیں ،جن طلبہ کی ریسرچ متاثر ہو رہی ہے یونیورسٹی ان طلبہ کو بلا سکتی ہے،اگلی کلاسوں میں پروموٹ ہونیوالے طالب علموں کیلیے بورڈ رولز آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کریں گے۔