تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے سے پانی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے ، محمد علی شاہ

93

 

عمرکوٹ (نمائندہ جسارت) پاکستان فشر فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ نے کہا ہے کہ تھرکول مائننگ اور کول پاور پلانٹس منصوبے سے بجلی پیدا کرنے سے ماحولیات پر منفی اثرات پڑیں گے، دنیا بھر میں اس وقت کئی ممالک کول پاور پلانٹس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے واپسی کی راہ اختیار کررہے ہیں، ماحولیاتی ماہرین کوئلے سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کو اچھا نہیں سمجھتے۔ پاکستان فشر فورم کے محمد علی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھر میں زیر زمین پانی کے ذخائر پہلے ہی بہت کم ہیں، اس منصوبے سے مزید کم ہوجائیں گے، دنیا میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے، پہلے ایل او بی ڈی سے پانی فراہمی کے منصوبے پر دس ارب روپے خرچ کیے گئے جو منصوبہ کامیاب نہیں ہوا، اس وقت نارا کینال سے پانی کی فراہمی کے لیے 20 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ نارا کینال سے پانی اٹھانے سے علاقے کی زرعی زمینیں بنجر ہوجائیں گی۔ زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، تھرکول منصوبے کو پانی کی فراہمی کے لیے جتنی رقم خرچ کی گئی اس سے پیاسے تھر کی پیاس بجھائی جاسکتی تھی، تھرکے غریب لوگوں کو پینے کا پانی مل سکتا تھا۔ پاکستان فشر فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ نے کہا کہ صحرائے تھر کے غریب تھری باشندوں کی زندگی کا دارو مدار ہی پانی ہے، تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے سے پانی کا سخت ترین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ آئندہ آنیوالے تیس سال میں کول مائننگ کے لیے 4000 ارب گیلن پانی استعمال ہوگا جبکہ 10 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے کول پاور پلانٹس کے لیے 8500 ارب گیلن پانی استعمال ہوگا۔ فشر فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے سارے تھر کا واٹر سائیکل تباہ ہوجائے گا، تھر کا فطری حسن تباہ وبرباد ہوکر رہ جائے گا۔ ایل بی او ڈی کا پانی زہریلا ہے، منصوبے پر اربوں روپے ضائع کیے گئے اب مکی فرش کینال کے حصے میں سے 200 کیوسک پانی زراعت کے لیے استعمال کیا جائے گا، یہ اردگرد علاقے والوں کی حق تلفی ہوگی، نبی سر کینال سے 60 کلو میٹر پائپ لائن کے ذریعے یہ پانی تھرکول تک پہنچایا جائے۔ محمد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ نبی سر ڈیم کی تعمیر کے لیے 265 ایکڑ زمین اور ویجھار میں ڈیم کی تعمیر کے لیے 205 ایکڑ زمین کام میں آئے گی، حقیقت میں ویجھار کی زمین گھوچر زمین ہے اور یہاں پہلے ہی ایک ڈیم بنا ہوا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اس منصوبے والے علاقے میں تین لاکھ درخت کٹنے کا خطرہ ہے۔ پاکستان فشر فورم ماحولیات کے حوالے سے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ اس موقع پر فشر فورم عمرکوٹ کے ضلعی صدر رمضان ملاح، جنرل سیکرٹری ایبی ملاح اور دیگر بھی موجود تھے۔