کوئی خون پسینہ بہائے اور کوئی فوائد سمیٹے

348

بارش کا کراچی کے عوام کو انتظار تھا۔ لیکن کیا پتا تھا کہ بارش ہوتے ہی بجلی غائب ہوجائے گی۔ چلیے ٹھیک ہے کہ یہ پہلی دفعہ تو نہیں ہوا یہ تو ہوتا ہی آیا ہے بارش ہوئی اور بجلی گھنٹوں کے لیے ندارد… خواہ بارش کے چند چھینٹے ہی پڑے ہوں۔ لیکن ایسا اب کہا گیا تھا کہ کے الیکٹرک کو لانے والے اور اس دور میں حکومت میں رہنے والے یعنی ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں اپنے اپنے طریقے سے دہائیاں دے رہے ہیں۔ تعجب یہ ہے کہ دہائیاں بھی کس سے دے رہے ہیں خود اپنی حکومت میں وزرا اور قومی اسمبلی کے ارکان موجود … خوب لطیفہ ہے کہ ایم کیو ایم کہتی ہے کہ اگر کے الیکٹرک نہیں سدھری تو ہمارے ارکان اسلام آباد جائیں گے اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ حضور آپ جائیں سو بسم اللہ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کے ارکان قومی اسمبلی اسلام آباد میں موجود ہوتے ہیں اقتدار کی راہ داریوں میں ٹہلتے ہی رہتے ہیں آخر وہ قومی اسمبلی میں کچھ کیوں نہیں کرتے؟ اصل بات یہ ہے کہ کے الیکٹرک ایم کیو ایم، پی پی پی ہو، پی ٹی آئی ہو یا مسلم لیگ فنکشنل سب کے لیے دودھ دینے والی گائے ہے۔ الیکشن میں سب نے اس سے فنڈ حاصل کیے اپنے رشتے داروں کے لیے نوکریاں لیں اور کے الیکٹرک نے دل بھر کر انہیں نوازا کے پھر وہ عوام کے ساتھ جو کرے یہ پارٹیاں اپنا منہ بند رکھیں۔ اور انہوں نے یہی کیا، کبھی کبھی ان پارٹیوں کا سیاسی رہنما یا وزیر مشیر منہ کھولتا ہے… لیکن یہ منہ کھولنا ایسا ہی ہے جیسے اپنی ہی حکومت کو نیند سے جگا کر توجہ دلانا اور پھر دوبارہ سلا دینا کیوں کہ کے الیکٹرک کے خلاف جانا اُن کے مفاد ہی میں نہیں ہے۔ ورنہ کیوں کے الیکٹرک صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کی اس قدر لاڈلی ہے کہ سوئی گیس اور پی ایس او کے نادہندہ کو شفقت سے پال رہی ہے۔ بلکہ اُسے بجلی مہنگی کرنے کی مکمل آزادی دی ہوئی ہے۔
وفاقی حکومت کی طرف سے کے الیکٹرک کو سبسڈی ملنے کے باوجود کراچی کے شہریوں کے لیے کے الیکٹرک کی طرف سے بجلی کے بلوں میں اضافے کی تیاری کی جارہی ہے۔ یعنی کراچی کے صارفین کی جیب سے 2 ارب 26 کروڑ روپے نکلوانے کی تیاری ہے۔ عالم یہ ہے کہ قیامت کی گرمی میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ معمول کی بات بن گئی ہے اور وہ بھی غیر اعلانیہ… لیکن اس سے بڑھ کر کے الیکٹرک نے مزید لوڈشیڈنگ کا اعلان کردیا ہے اور بہانہ یہ بنایا ہے کہ کے الیکٹرک کو ایندھن کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ایندھن یعنی فرنس آئل کی فراہمی معمول پر آتے ہی بجلی کی پیداوار میں بہتری کی اُمید ہے۔ کے الیکٹرک کے ترجمان نے کراچی کے عوام کی مزید جان جلانے کے لیے بجلی کے مناسب استعمال کی طرف توجہ دلائی ہے۔ جب کہ عوام کہتے ہیں کہ بجلی آئے گی تو اس کا مناسب استعمال بھی ہوگا۔ ادھر محکمہ موسمیات نے ہیٹ وویو کی پیش گوئی کردی ہے۔ لہٰذا معاملہ یہ ہے کہ جیسے جیسے گرمی بڑھ رہی ہے کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور بارش کے بعد سے تو کراچی کے چاروں کونوں سے فون آتا ہے کہ بجلی 14، 14 گھنٹوں سے غائب ہے۔ حکومت کی طرف سے بیان آتا ہے کہ نیپرا نوٹس لے رہی ہے۔ بھلا کوئی بتائے کہ نیپرا کیا پہلی دفعہ نوٹس لے رہی ہے اس نے تو پہلے بھی کئی دفعہ نوٹس لیا ہے بلکہ کے الیکٹرک کو نوٹس بھی دیا ہے لیکن کوئی فرق نہیں پڑا اور نہ پڑے گا۔ عوام بدحال تو پہلے ہی ہے۔ کورونا کے باعث بیروزگاری کے ساتھ صحت کے مسائل… اوپر سے بجلی نہیں بجلی کے دوگنے تین گنے بل موجود۔ ادھر حکومت سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ ایک جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن ہیں جو ہر وقت عوام کے لیے خون پسینہ بہانے کو تیار رہتے ہیں۔ جی ہاں خون پسینہ… انہوں نے شدید گرمیوں بلکہ رمضان میں بھی کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرے کیے ہیں لیکن یہ اپریل 2017ء کے دن تھے انہوں نے کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرے کے اعلان کیا۔ یہ ایک پرامن مظاہرہ تھا۔ جماعت اسلامی تو لاکھوں کے جلسے اور ریلیاں منعقد کرتی ہے، بغیر کسی ہڑبونگ اور نقصان کے۔ کوئی سائن بورڈ، کوئی گملہ توڑے بغیر… یہ تو ایک ایسا مظاہرہ تھا جو کراچی کے عوام کے سُکھ اور چین کے لیے تھا۔ دس اور پندرہ پندرہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے خلاف تھا۔ لیکن سندھ حکومت نے کیا کیا۔ آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کردی۔ ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی یہ سلسلہ کم از کم دو گھنٹے جاری رہا۔ گولی کسی کے سر کو چھوتی گزری، کسی کے پیٹ میں لگی۔ آنسو گیس کے شیلوں نے کتنوں کو خونم خون کیا۔ کراچی کے جوانوں، بزرگوں سب کو مار پیٹ کر پولیس وین میں بھر دیا۔ سوچیے حکومت سندھ کو کے الیکٹرک کی محبت میں اس قدر اور اس حد تک جانے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی۔ بات وہی ہے کہ حکومت سندھ اور کے الیکٹرک کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ کے الیکٹرک کے خلاف آواز اُٹھانے والے نعیم الرحمن نے جب جب آواز اٹھائی ایم کیو ایم کے رہنمائوں نے انہیں اور ان کی جماعت کو لتاڑا… انہیں کراچی کے عوام کے لیے اُن کا بولنا بھی ناگوار گزرتا ہے۔ کیوں کہ وہ خود کو کراچی کا وارث کہتے ہیں لیکن یہ کیسے وارث ہیں۔ عشروں سے حکومت میں ہیں صوبائی اور قومی اسمبلی بلدیاتی ادارے میئر کی کرسی سب پر براجمان ہیں۔ لیکن کراچی کو کس حال میں پہنچادیا ہے۔ KESC کو KE میں بدلنے والے اس کی ناقص کارکردگی پر ہمیشہ ہی مطمئن رہے۔ مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی ہی حکومتوں سے مطالبے کرتے رہے۔ کیا پچھلے بیس پچیس سال سے حکومت میں رہنے والی جماعتیں کراچی کے دکھوں کی ذمے دار نہیں؟؟۔