میانمر میں فوج روہنگیوں پر بمباری کر رہی ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

156
راکھین (میانمر): روہنگیا مسلمانوں کی آبادی پر کی گئی بم باری کے نتیجے میں جھونپڑیوں کو آگ لگی ہوئی ہے

 

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمر میں بمباری کے دوران روہنگیا اور دیگر نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور خواتین سمیت معصوم شہریوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ میانمر کی فوج ریاست راکھین اور چن میں اقلیتوں کے خلاف جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنیبیان میں کہا ہے کہ میانمر کی فوج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ہے، جس نے راکھین میں روہنگیا مسلمانوں اور چن دیگر اقلیتوں کی آبادیوں پر بمباری کی، جس کی زد میں آکر بچے اور خواتین بھی مارے گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ روہنگیا اور چن اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس ایک برس سے معطل ہے، جب کہ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس طرح راکھین اور چن صوبوں کے عوام تہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رواں برس مئی اور جون کے درمیان راکھین اور چن صوبوں کے کئی شہریوں کے انٹرویو کیے، جنہوں نے مقامی فوج کے مظالم سے متعلق ہوشربا انکشافات کیے۔ ان کے علاقوں میں بمباری کی گئی، گھروں کو مسمار کیا گیا اور غیر قانونی گرفتاریاں کی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ 2017ء میں میانمر کی فوج کے مظالم اور نسل کشی کے باعث 8 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ہجرت کرکے بنگلا دیش کے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جب کہ مئی سے شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے بھی 10 ہزار روہنگیا مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اسی تناظر میں برطانیہ کی جانب سے 3 روز قبل میانمر کی فوج کے 2اعلیٰ جرنیلوں کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف 2017ء اور 2019ء میں ریاستی جبر کیا گیا، جسے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے منظم نسل کشی قرار دیا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا نشانہ بننے والے دونوں جنرل من آنگ ہلینگ اور سو وین غیر قانونی قتل، تشدد، جبری مشقت اور خواتین سے منظم زیادتی کے ذمے دار ہیں۔