جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف آج100سے زائد مظاہروں کا اعلان

157
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن دیگر رہنمائوںکے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ، اوور بلنگ اور ٹیرف میں اضافے کے خلاف آج بروز جمعہ 10 جولائی بعد نماز جمعہ مساجد کے باہر اور شہر کے سوسے زائد مقامات پر مظاہرے کیے جائیں گے اوربروز ہفتہ 11جولائی شام 4بجے شارع فیصل نرسری پر تاریخی دھرنا دیا جائے گا ، حکومتوں میں شامل پارٹیاں کے الیکٹرک کی سرپرستی کررہی ہیں ،حکومت میں شامل جماعتیں کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کر کے کراچی کے عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں ،کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی 56 لاکھ تنخواہ لے کر شہر میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں،ECCکاکے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی کے باوجودمرضی کے ٹیرف منظور کرنا انتہائی افسوسناک ہے، حکمران چاہتے ہیں کہ قومی خزانے سے کے الیکٹرک کے ذمے واجب الاداء ادائیگیوں کو پورا کیا جائے اور ابراج گروپ کو فرار ہونے کا محفوظ راستہ فراہم کیا جائے ، ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ اور فوری طور پر قومی تحویل میں لیا جائے ، ادارے کافارنزک آڈٹ کیا جائے اور اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے تاکہ پھر سے کسی سرکاری کمپنی کی نجکاری نہ ہوسکے۔ جماعت اسلامی پر امن طریقے سے کراچی کے عوام کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے ،اگر دھرنے میں روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمے داری صوبائی حکومت اور لاء انفورسمنٹ اداروںپر عائد ہوگی ،بجلی کا مسئلہ پورے کراچی کا مسئلہ ہے ،کراچی کے شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کی ظالمانہ اوور بلنگ ،لوڈ شیڈنگ کے خلاف زیادہ سے زیادہ تعداد میں دھرنے میں شرکت کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں ’’پریس کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری کراچی عبد الوہاب، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، امیر ضلع جنوبی ورکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید اورسیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہا کہ جماعت اسلامی نے شروع دن سے ہی کے الیکٹرک کی نجکاری کی مخالفت کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک کے الیکٹرک کے خلاف مہم بھی چلائی اور مظاہرے بھی کیے جس میں جماعت اسلامی کے کارکنان پر فائرنگ بھی کی گئی، آج حکومتی پارٹیاں اپنی سیاست چمکانے کے لیے کے الیکٹرک کونام نہاد طریقے سے سپورٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند دنوں پہلے قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں (ECC) بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا اس اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ بھی موجود تھے، حکومتوں میں شامل جماعتیں کراچی کے عوام کی آنکھوں دھول جھونک رہی ہیںاور عوام کو ایک بار پھر سے بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایم کیو ایم پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے جس نے ایک بار مشرف کے ساتھ اور دوسری بار زرداری کے ساتھ مل کر کے الیکٹرک کو فروخت کیا، پیپلزپارٹی کے الیکٹرک کو ابراج گروپ کے حوالے کرنے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی حالیہ بدترین کارکردگی کی بنیاد پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کا لائسنس منسوخ کیا جاتا لیکن کراچی کے شہریوں پر ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے شہریوں پر بجلی بم گرایا ہے اور قیمتوں میں2 روپے89 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے، کراچی کے شہر ی اس پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی کے الیکٹرک کیخلاف اورکراچی کے عوام کو ریلیف دلانے کے لیے زبردست تحریک چلائی تھی اس سلسلے میں گورنر ہاؤس پر4 دن تک دھرنا بھی دیا تھا اورگزشتہ دنوں جماعت اسلامی کے تحت کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس پر مظاہرہ بھی کیا گیا اور پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی تھی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے سپورٹرز، تاجر ویگر سماجی طبقے کے افراد شارع فیصل کے دھرنے میں شرکت کریں۔