ہائیکورٹ نے زلفی بخاری کی چیئرمین پی ٹی ڈی سی تعیناتی پر سوالات اٹھادیے

102

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ میں زلفی بخاری کی بطور چیئرمین پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن بورڈ تعیناتی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ کیا حکومت ساڑھے 21 کروڑ لوگوں میں سے ایک بھی مستقل چیئرمین نہیں بنا سکتی میرا بھی اتنا تجربہ ہو گیا ہے، حکومت نے جو کام نہیں کرنا ہوتا اس کو اِدھر اْدھر کیسے کیا جاتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین پی ٹی ڈی سی کی تعیناتی کا طریقہ کیا ہے ، کون منتخب کرتا ہے جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پی ٹی ڈی سی کی 97 فیصد شیئر ہولڈر ہے، حکومت ہی کسی کو تعینات کرتی ہے جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ قائمقام سربراہ تو کسی کے فوت ہونے یا چھٹی پر جانے کی صورت میں عارضی ہوتا ہے قائمقام سربراہ ہمیشہ کے لیے کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ پی ٹی ڈی سی ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیے جانے پر زلفی بخاری کے خلاف نئی درخواست بھی دائر کر دی گئی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ زلفی بخاری قائمقام چیئرمین ہوتے ہوئے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے جیسے پالیسی فیصلے کر رہے ہیں۔ عدالت نے زلفی بخاری کیخلاف دائر تمام درخواستیں یکجا کر کے سننے کا فیصلہ کیا ہے ،کیس کی سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔